غزہ سے جڑی نئی امریکی بندرگاہ پر اپنی فوج تعینات نہیں کریں گے : برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیر خارجہ برطانیہ ڈیوڈ کیمرون نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کے لئے اپنی فوج نہیں بھجے گا۔ البتہ اس کام کے لئے برطانیہ ٹھیکیداروں سے مدد لے سکتا ہے۔ ماضی میں امریکہ بھی ہر جگہ پر اپنی فوج کے استعمال کے بجائے سول کنٹریکٹرز کو بھی بروئے کار لاتا رہا ہے۔افغانستان، پاکستان اور عراق میں امریکہ ایسا کر چکا ہے۔ امریکہ اسے بلیک واٹر کا نام بھی دیتا رہا ہے۔

اب جبکہ امریکہ نے غزہ سے جڑی ساحلی پٹی پر پینٹاگون کے ذریعے ایک نئی بندرگاہ تعمیر کرلی ہے ۔ اس پندرگاہ کو چلانے کے لئے اسے پینٹاگون کے ساتھ دیگر اتحادیوں کی فوج کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ امریکہ کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے چھوٹی سی جنگی یا غیر جنگی ضرورت کے لئے بھی تنہا اپنی فوج کو استعمال نہیں کرتا بلکہ سب اتحادیوں کو ساتھ ملاتا ہے۔ نئی بندر گاہ کے لئے بھی برطانیہ وغیرہ کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ان کا ملک اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ خیال رہے یہ فوج غزہ کے ساحل پر تعینات کرنے کا امریکی منصوبہ ہے۔ تاکہ اپنی فوج کی موجودگی میں اور امدادی سامان کی ترسیل اور تقسیم ممکن بنا سکے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے یہ اس کے باوجود کہا ہے۔کہ ان کا۔ملک اس کوشش کا پوری طرح حصہ ہے اور کی رائل نیوی میں سارے منصوبے میں ساتھ رہی ہے۔ رائل نیوی کا بحری جہاز لاجسٹک کے امور میں خدمات پیش کرتا رہا ہے۔لیکن غزہ کے نزدیک اپنے فوجیوں کو کسی بھی آپریشن کا اب حصہ بنانے سے برطانبہ گریز کی پالیسی دکھا رہا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے یہ بات بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔

برطانوی فوجیوں کی زمین پر موجودگی کے بارے میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا ' مجھے لگتا ہے یہ ایک رسک ہو گو اس لیے ہم اس میں نہیں پڑیں گے اور برطانوی فوجیوں کؤ زمین پر نہیں اتاریں گے۔ ہاں بعض دوسرے لوگوں کے لیے (ملکوں کے لیے ) یہ کام آسان ہو گا وہ اسے آسانی سے کر لیں گے۔'

امریکہ اور برطانیہ اس وقت اسرائیل کو رفح میں بغیر منظم منصوبے کےوسیع زمینی جنگ سے روک ریے ہیں کہ ایسا کرنے سے حالات سنگین تر ہوں گے، پہلے ہی انسان تباہی کا شکار ہو چکے ہیں ۔

دونوں ملکوں کا اپنے ہاں نوجوان نسل کے علاوہ سیاسی و عوامی سطح پر بھی رد عمل کا سامنا کر پڑ رہا ہے۔ امریکی انتخابی مہم کے دوران یہ سلسلہ مزید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

امریکہ نے تو اکا دکا بموں کی قسمیں تکنیکی بنیادوں پر روکنے کا عندیہ دیا ہے کہ رفح پر حملے کے لیے ان بوئنگ ساختہ بموں کی اسرائیل کو ضرورت نہیں ہے۔ البتہ برطانیہ نے اپنی اسلحہ کمپنیوں کو اسرائیل کے لیے اسلحے کی ترسیل روکنے کے لیے نہیں کہا ہے۔

تاہم برطانوی وزیر خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ برطانیہ کا ایک اہم نمائندے کی اس پس منظر میں اسرائیلی حکام کے ساتھ ملاقات کا ارادہ رکھتا ہے۔جو انسانی امداد کی تقسیم کے امور پر بھی بات کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں