کیا مصر اور اسرائیل 35 سال بعد ایک بار پھر عالمی قانون کے اکھاڑے میں داخل ہوچکے؟

فلسطینیوں کی نسل کشی کےخلاف جنوبی افریقہ کے مقدمےمیں مصرکی شمولیت سے کیس مضبوط ہوگا:ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مصر اور اسرائیل کے درمیان ایک نیا قانونی تصادم دونوں ممالک کے درمیان انتہائی پرتشدد اور زبردست فوجی تصادم کے 35 سال بعد سامنے آیا ہے۔ یہ پیش رفت مصر کی طرف سے بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کی حمایت کی صورت میں سامنے آئی ہے اور اس کیس میں مصرنے جنوبی افریقہ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے غزہ جنگ میں اسرائیل پر جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات کی تائید کا اعلان کیا ہے۔

مصر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ مقدمے میں مداخلت کا اعلان غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کی بڑھتی شدت اور جنگ کے دائرہ کار میں اضافے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں منظم فوجی کارروائیوں کے دوران شہری آبادی، فلسطینی عوام، شہریوں کو براہ راست نشانہ بنانے، پٹی میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی، فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سےجبرا بے گھر کرنے، غزہ میں شہری آبادی کے لیے خوراک اور امداد کی آمد کےراستوں کو بند کرکے غیر مسبوق انسانی بحران پیدا کیا جس کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں ناقابل رہائش حالات پیدا ہوئے۔ جنگ کے دوران شہریوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی حقوق اور 1949ء کو منظور کردہ چوتھے جنیوا کنونشن کی شقوں کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

مصرنے سلامتی کونسل اور بااثر بین الاقوامی فریقوں سے غزہ کی پٹی میں جنگ اور فلسطینی شہر رفح میں فوجی آپریشن بند کرنے اور فلسطینی شہریوں کو ضروری تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری ایکشن لینے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان انتہائی پرتشدد اورزبردست تصادم کے 35 سال بعد ایک نئی جنگ

مصراوراسرائیل کے درمیان نیا قانونی تصادم بین الاقوامی انصاف میں دونوں ممالک کے درمیان 35 سال بعد ہوا ہے۔ ساڑھے تین عشرے پیشتر مصر نے جنوبی سینا کا علاقہ طابا اسرائیل سے واپس لے لیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان طابا کا مسئلہ اپریل 1982 میں شروع ہوا اور مصر کی جانب سے سینا کی تمام اراضی دوبارہ حاصل کرنے کے بعد طابا کا علاقہ باقی رہ گیا جسے اسرائیل نے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

طابا کوواگزار کرانے کے لیے دوبارہ جنگ

26 مارچ 1979ء کو طے پانے والے مصر-اسرائیل امن معاہدے کے مطابق جس کے تحت اسرائیل کو مصر نے جون 1967 میں قبضے میں لی گئی تمام زمینوں سے دستبردار ہونے پرتیار کرلیا تھا۔ اس معاہدے کے نفاذ کے لیے ایک مشترکہ کمیشن کےقیام کا فیصلہ کیا گیا تاہم مزید حل طلب مسائل کا دیر پا حل تلاش کیا جا سکے اور معاہدے کو عملی شکل دی جا سکے

یمارچ 1982ء میں سینا سے اسرائیلی انخلاء مکمل ہونے سے ایک ماہ قبل مصری-اسرائیلی کمیشن میں مصری فوج کے سربراہ نے اعلان کیا کہ بعض سرحدی مقامات خاص طور پر "علامت 91 " پر دونوں ممالک کےدرمیان بنیادی اختلاف ہے۔ انخلا کو مکمل کرنے کے بعد دونوں فریقین نے طابا سے انخلا کو ملتوی کرنے اور اس مسئلے کو بین الاقوامی قوانین کےتحت حل کرنے پر اتفاق کیا۔ خاص طور پر آرٹیکل سات کی روشنی میں طابا کا مسئلہ حل پرکرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ متنازعے جگہ کا معاملہ مذاکرات سے حل کرنا ناممکن ہو تو متنازعے جگہ کے بارے میں عالمی قانون کے تحت تشریح کرکے اس کے بعد گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائےگا۔

مصر اور اسرائیل کے درمیان ایک عارضی معاہدے کی منظوری

تنازعہ کے حل ہونے تک مصرنے اسرائیل کے ساتھ ایک عارضی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ اسرائیل اس علاقے میں کسی قسم کی تنصیبات کی تعمیر نہیں کرے گا، لیکن اسرائیل نے معاہدے کی اس شرط کی پاسداری نہیں کی۔ اس نے 15 نومبر 1982ء کو سونیسٹا ہوٹل کھولنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ تفریحی اور سیاحتی گاؤں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے طابا پر اپنی اجارہ داری مسلط کرنے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے۔

ثالثی قبول اور بات چیت کا آغاز

اسرائیل نے 13 جنوری 1986ء کو مصر کے ساتھ طابا کے معاملے میں ثالثی قبول کرتے ہوئے مذاکرات کا اعلان کیا۔ دونوں فریقوں کے درمیان 30 ستمبر 1988ء کو بات چیت شروع ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک پرتشدد قانونی جنگ کے بعد بین الاقوامی ثالثی پینل نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ طابا مصری علاقہ جس کے بعد اسرائیل نے19 مارچ 1989 کو یہ علاقہ مصر کے حوالے کردیا۔

ہم جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے میں مصر کے داخلے کے مسئلے کی طرف لوٹتے ہیں۔ ہم اس کی اہمیت اور اہمیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہےکہ مصر اس معاملے کو کیسے حل کرتا ہے؟


کیس کے دوران ایک اہم موڑ

مصرکے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ڈاکٹر محمد محمود مہران نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مصر کی جانب سے جنوبی افریقہ کے مقدمے کی حمایت کرنے کا فیصلہ مقدمے کے دوران ایک "ٹرننگ پوائنٹ" کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ اس کیس میں مصرکی مداخلت ایک اہم قدم ہے۔
مصرنے 35 سال قبل اسرائیل کے خلاف عالمی فورم پر طابا کے حصول کی شاندار فتح اہمیت کی حامل ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ عالمی سطح پر فلسطینی قوم کے دفاع کی حمایت میں مصرکی مداخلت ان کے حقوق کے حصول میں معاون ثابت ہوگی۔

فیصلے کی زمانی اہمیت

ڈاکٹر مہران نے مزید کہا کہ مصری مداخلت کا وقت بہت اہم مضمرات رکھتا ہے، کیونکہ اس سے جنوبی افریقہ کی قانونی پوزیشن بہت مضبوط ہو گی اور وہ نسل کشی کنونشن کی تشریح اور اسرائیلی طرز عمل پر اس کے اطلاق کے حوالے سے اپنا نقطہ نظرزیادہ جرات کے ساتھ پیش کر سکے گا۔ مصرکی جغرافیائی اہمیت بھی مسلمہ ہے کیونکہ غزہ کا پڑوسی ہونے کے ساتھ ساتھ قاہرہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کی میزبانی کرچکا ہے۔ اس لیے وہ دونوں کے معاملات اور اسرائیل کے طرز عمل سے بہ خوبی واقف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں