اسرائیل: اعلان کردہ یادگاری دن پر سات اکتوبر کی پرچھائیاں

صدر کا دیوار گریہ کے سامنے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اتوار کے روز اسرائیل میں اسرائیلی پرچموں کے ساتھ سجائے گئے دن کی یادیں سات اکتوبر کی اسرائیل کے لئے تکلیف دہ یادوں کی پرچھائیوں کے سائے میں رہیں۔ سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر ایسا حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً 1100 اسرائیلی مارے گئے جبکہ 240 کے قریب کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اسرائیلی حکومت کے اعلان کے مطابق صبح آٹھ بجے پورے اسرائیل میں سائرن بجائے گئے۔ ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ تاکہ ہلاک شدہ اسرائیلی فوجیوں اور عام لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاسکے۔

واضح رہے یہ دن منانے کی سرگرمیوں کی حکمت عملی اسرائیلی حکومت کی طرف سے اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج اور حکومت کو دنیا بھر میں تنقید کا سامنا ہے کہ اس نے تقریبا 35 ہزار فلسطینیوں کو ہلاک کرتے ہوئے سب سے زیادہ فلسطینی عورتوں اور بچوں کو قتل کیا ہے۔

اسرائیل اس کے باوجود ابھی تک جنگ بندی کو تیار نہیں ہے۔ نیز اس نے ایک اور بڑی تباہی کے لیے رفح میں زمینی جنگ کی شروعات کر دی ہے۔ حتیٰ کہ اپنے یرغمالیوں کی زندہ واپسی اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔

اس ظالمانہ تاثر کو بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں شروع کارروائی نے بھی اسرائیل کو ایک مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اس لیے اسرائیلی حکمت کاروں نے اسرائیلی مظلومیت کے پہلو بنا بنا کر پیش کرنے کی حکمت عملی بنائی۔ اسی کے تحت 'ہولو کاسٹ سروائیورز ' یورپی ملکوں میں متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسرائیلی صدر اضحاک ہرزوگ نے اتوار کے روز ہونے والی خصوصی تقریب کے موقع پر کہا 'آج کی رات ہمارے پاس امن نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خاموشی ہے۔' یہ تقریب یروشلم کی مغربی دیوار میں جاری تھی۔ جہاں یہودی عبادت کرتے ہیں۔

اسرائیلی صدر نے اسرائیل کے اندر اسرائیلیوں کو مذہبی کارڈ کی بنیاد پر اکٹھا کرنے کے کیے پوری دنیا کے یہودیوں کے لیے پر تاثیر گفتگو کی 'میں ایسی جگہ پر کھڑا ہوں جس جگہ ہمارے ٹیمپل کی باقیات ہیں۔ جس دیوار کے سامنے ہم گریہ کرتے ہیں۔ ہماری دیوار گریہ۔ ہماری غموں اور پریشانیوں کو یاد کرنے، ان پر رونے اور فریاد کرنے کی دیوار۔ اسی دیوار کے سامنے ہم اپنے اس سال مرنے والوں کو یاد کرتے ہیں ان کا سوگ مناتے ہیں۔

اسرائیلی صدر نے مزید کہا 'یہ سوگوار یادیں ہمیشہ ہم اسرائیلیوں کے لیے بھاری سوگ کی شکل میں رہی ہیں۔ ہمارے ان لوگوں کی وجہ سے جنہوں نے متعدد جنگیں لڑی ہی ۔ یہ سلسلہ 1948 سے جاری ہے۔ '،تاہم سات اکتوبر سے حماس کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ اب سات ماہ سے زیادہ لمبی ہو رہی ہے۔ اس نے ایک نئے ماحول اور یاد کی ابتدا کی ہے۔ اسرائیلی حکام بار بار سات اکتوبر کو اپنی ناکامی اور حماس کی یلغار روکنے میں ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔

اسرائیلی صدر نے کہا ' ان دنوں میں ہر دن میرے کندھوں پر احساسات موجود رہتے ہیں۔ میں پوری طرح سمجھتا ہوں اس کی خاص اہمیت ہے۔ '
اضحاک ہرزوگ نے کہا بطور کمانڈر میں نے آپ کے بیٹوں اور بیٹیوں کو جنگوں میں بھیجا ہے۔ ان جنگوں میں جن سے وہ واپس نہیں آئے۔ جہاں آپ کے بیٹوں کو اغوا کیا گیا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں