اسرائیل نقل مکانی کرنے والوں کو واپس لانے کے لیے غزہ میں جنگ بندی کرے: حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی اسرائیل سے نقل مکانی پر مجبور ہونے والے اسرائیلیوں کے اس وقت گھروں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک غزہ کے فلسطینی اپنے گھروں کو واپس نہیں چلے جاتے۔ حسن نصراللہ نے یہ بات ایک ٹی وی خطاب کے دوران کہی ہے۔

خیال رہے اسرائیل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل میں حزب اللہ کی راکٹ بازی اور حملوں کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہونے والے اسرائیلیوں کو نئے تعلیمی سال کے شروع میں واپس اپنے گھروں میں جانے کی اجازت دینے کے لیے چاہے گا کہ سفارتی سطح پر کوشش ہو۔ تاکہ حزب اللہ کے ساتھ فائر بندی ہو جائے اور یکم ستمبر سے پہلے نقل مکانی کرنے والے اسرائیلی گھروں کو لوٹ سکیں۔

تاہم حسن نصراللہ نے اس بارے میں واضح انداز میں اسرائیل کے نقل مکانی کیے ہوئے لوگوں سے کہا ہے ' اگر آپ یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو اپنی حکومت کے پاس جائیں اور اس سے کہیں کہ پہلے غزہ میں جنگ بند کرو پھر اس پر بات کرو۔'

واضح رہے سات اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے اگلے ہی روز سے حزب اللہ نے حماس اور غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے کیے شمالی غزہ پر راکٹ حملے شروع کر دیے تھے۔ دوسری جانب اسرائیل نے حزب اللہ کو لبنان کے اندر ہی مصروف رکھنے کے لیے جنوبی لبنان پر بمباری، ڈرون حملے اور میزائل باری شروع کر دی تھی۔

اسرائیلی فوج کے حملوں سے سینکڑوں لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حزب اللہ کے راکٹ حملوں سے اسرائیلیوں کی ہلاکتیں بہت تھوڑی ہوئی ہیں۔ البتہ دونوں کی سرحدی آبادیوں کے ہزاروں رہائشی نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ حزب اللہ نے کہہ رکھا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد حزب اللہ کے راکٹ حملے روک دیے جائیں گے۔ تاہم ابھی تک اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کو تیار نہیں ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے بھی پیر کے روز اپنی تازہ ٹی وی تقریر میں بار بار یہ بات کہی ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ میں جنگ بند نہیں کرتا حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا ہمارا غزہ کے عوام اور حماس کی حمایت کا تعلق قطعی اور حتمی ہے کوئی بھی اس تعلق کو ختم یا کمزور نہیں کر سکتا ہے۔

ادھر قاہرہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا اب تک کا آخری دور ناکام ہو چکا ہے۔ اگرچہ حماس نے شرائط تسلیم کر لی تھیں۔ مگر اسرائیل جنگ بندی کو تیار نہیں۔ اسرائیل نے رفح کو بھی اپنے ٹینکوں کے گھیرے میں لے لیا ہے۔ رفح راہداری سے بھی غزہ کے لیے انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل روک دی ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی فوج نے لبنان میں بھی اپنے حملے جاری رکھے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں