فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل نے رفح میں وسیع کارروائی کے لیے شہر کے اطراف میں فوج جمع کرنا شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بارہا امریکی انتباہ کے باوجود اسرائیل غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح پر بڑے پیمانے پر زمینی حملے لیے تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے رفح کے اطراف میں بڑی تعداد میں فوج جمع کرنا شروع کر دی ہے۔

دو امریکی عہدیداروں نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ اسرائیل نے آنے والے دنوں میں وسیع پیمانے پر دراندازی کرنے کے لیے رفح کے مضافات میں کافی افواج کو متحرک کر دیا ہے۔

'سی این این' کےمطابق انہوں نے مزید کہا کہ سینیرامریکی حکام کو یقین نہیں ہے کہ آیا تل ابیب نے بے گھر فلسطینیوں سے بھرے شہر پر ایک جامع حملہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، کیونکہ ایسا جوبائیڈن انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چینلج ہے۔

لیکن پیر کے روز ایک عہدیدار نے خبردار کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں اس وقت مقیم دس لاکھ سے زائد بے گھر فلسطینیوں کے ممکنہ انخلاء سے قبل خوراک، صحت عامہ اور پناہ گاہ سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سمیت مناسب تیاری مکمل نہیں کی ہے۔

رفح میں بے گھر افراد
رفح میں بے گھر افراد


سرخ لکیر

اگر اسرائیل رفح میں ایک بڑی زمینی کارروائی شروع کرتا ہے تو یہ امریکہ کی طرف سے مہینوں پہلے جامع حملے کو ترک کرنے کے لیے دی گئی وارننگ کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔

گذشتہ دنوں امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ رفح پر وسیع پیمانے پر حملہ 'سرخ لکیر' عبور کرنے کے مترادف ہوگا۔

امریکی صدر نے 'سی این این' کے ساتھ اپنے انٹرویو میں اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اگر اس نے یہ قدم اٹھایا تو ان کا ملک اسرائیل کو ہتھیاروں کی مزید ترسیل روک دے گا۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کل پیر کے روز انتباہ کو دہرایا کہ "رفح میں کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی ایک غلطی ہوگی"۔

رفح میں بے گھر افراد
رفح میں بے گھر افراد

جب کہ تل ابیب نے اعلان کیا کہ اس کے دعوے کے مطابق "اس کی موجودہ کارروائیاں مخصوص نوعیت کی ہیں جنہیں جامع کارروائی کا نام نہیں دیا جا سکتا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں