امدادی کارکنوں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکتیں مسلسل جاری ہیں : ہیومن رائٹس واچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ کے دوران مسلسل انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے امدادی اداروں کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس امر کا اظہار انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے 'ہیومن رائٹس واچ' نے منگل کے روز اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے ہے۔

'ہیومن رائٹس واچ' کے مطابق اسرائیلی فوج نے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے کارکنوں کو اس کے باوجود اپنی بمباری و گولہ باری کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے غزہ میں کام کرنے سے پہلے اسرائیلی حکام سے باضابطہ کوآرڈینیشن کی تھی اور اجازت لے رکھی تھی۔ نیز اسرائیلی حکام نے انہیں ان کے تحفظ کی ضمانت دے رکھی تھی۔

'ہیومن رائٹس واچ' کے مطابق اس کی طرف سے اب تک ایسے 8 واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں امدادی کارکنوں کے قافلوں اور امدادی کارکنوں کے دفاتر یا مراکز کو اسرائیلی فوج نے ٹارگٹ کر کے نشانہ بنایا ہے۔

ان واقعات میں کم از کم 15 امدادی کارکن جاں بحق ہوگئے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے 'اسرائیلی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے یہ امدادی کارکن ان 250 امدادی کارکنوں کے علاوہ ہیں جن کی ہلاکتیں اس سے پہلے اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار میں کی جا چکی ہیں۔

خیال رہے خود اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے مراکز پر اسرائیلی فوج حملے کرتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی پہلے سے موجود رپورٹ کے مطابق اب تک 250 امدادی کارکنوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

یاد رہے 'ہیومن رائٹس واچ' کی طرف سے مرتب کردہ واقعات کے مطابق آٹھوں کے آٹھوں واقعات میں یہ چیز سامنے آئی ہے کہ ہر بار متعلقہ ادارے نے اسرائیلی حکام کو پہلے سے آگاہ کر رکھا تھا۔ ان سے کوآرڈیشن کر رکھا تھا۔ مگر اس کے باوجود امدادی کارکنوں کو اسرائیلی فوج نے زندگی سے محروم کر دیا۔

'ہیومن رائٹس واچ' نے کہا ہے 'ان مسلسل واقعات کے ہونے کے باعث یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ اسرائیل کے ہاں امدادی کارکنوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے نظام میں کافی کمزوریاں ہیں۔ جن پر وقت کے ساتھ ساتھ امدادی کارکنوں اور ان کی تنظیموں کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔

عالمی ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ غزہ کی جنگ انسانی خون بہانے کے حوالے سے ایک بدترین جنگ ہے۔ جس میں اب تک 35091 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

صرف یہی نہیں کہ ایک طرف اسرائیلی فوج امدادی کارکنوں پر بمباری کرتی ہے۔ تو دوسری طرف اس نے ایسا راستہ اختیار کر رکھا ہے کہ انسانی بنیادوں پر زندگیاں بچانے والی ادویات سمیت کھانے پینے کی بنیادی اشیاء تک کو غزہ کے لوگوں تک پہنچنے سے روک رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں