ایرانی جوہری رازچرانے کاخطرناک آپریشن'ٹارگٹ تہران'میں خاتون ایجنٹ کا مرکزی کردار

ایران کے جوہری پروگرام کے آرکائیوز سے سیکڑوں ٹن دستاویزات کی چوری کی تفصیلات پرمبنی کتاب میں اس آپریشن کے چونکا دینے والے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

مئی 2018ء میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی انٹرایکٹو پریس کانفرنس میں ایک پریزنٹیشن دے کر 'بم دھماکہ' کیا جس میں انہوں نے فارسی میں بنائے ویڈیو کلپس، تصاویر اور دستاویزات کے حصول کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ سب ایران کے جوہری پروگرام کےثبوت اور ریکارڈ کا حصہ تھیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ تمام دستاویزات ایران کے جوہری پروگرام کا پتا دیتی ہیں جن میں خفیہ جوہری سرگرمیوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ انہوں نے ان دستاویزات کےحصول کو ٰایرانی جوہری پروگرام پر ایک کاری ضرب قرار دیا۔

نیتن یاہو کے مطابق اس وقت اسرائیلی موساد کے ارکان ایرانی دارالحکومت تہران میں داخل ہوئے اور تقریباً نصف ٹن دستاویزات لے کر اسرائیل واپس چلے گئے۔

اس وقت سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے 'ٹویٹر' موجودہ 'ایکس' پلیٹ فارم پر ایک سابقہ ٹویٹ کے ساتھ نیتن یاہو کے دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نیتن یاھو ایک ایسا بچہ ہے جسے جھوٹ بولنے کی عادت ہے اور وہ یہ عادت نہیں چھوڑ سکتا۔

حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری دستاویزات کی چوری کے بارے میں ایک کتاب کی کہانی نے توجہ حاصل کی جسے اسرائیل پر حماس کے حملے سے دو ہفتے قبل شائع کیا گیا تھا، لیکن اس حملے کی وجہ سے اسے نمایاں جگہ نہیں مل سکی اور زیادہ توجہ اس جنگ پرمرکوزرہی ہے جو گذشتہ سال سات اکتوبر سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری ہے۔

نیتن یاہو نے ایرانی جوہری دستاویزات پر تنقید کی
نیتن یاہو نے ایرانی جوہری دستاویزات پر تنقید کی

امریکی فارسی زبان کے ریڈیو فردا نے اسرائیل میں اپنے نامہ نگار کی ایک رپورٹ نشرکی جس میں اسرائیلی مصنفین کی تیار کردہ اس کتاب کے اقتباسات کا ذکر کیا گیا۔

ایرانی حلیے میں اسرائیلی خاتون ایجنٹ کا کردار

اس کتاب کا آغاز ایک عام خاتون کے تذکرے سے ہوتا ہے جو کہ تہران کے جنوبی مضافات میں سے ایک محلے میں ہر روز چہل قدمی کرتی ہے۔ اس کی شکل و صورت اور برتاؤ عام اور معمول کے ایرانی باشندوں جیسا ہے جس کی وجہ سے ایرانی سکیورٹی اہلکار اس پر توجہ نہیں دیتے۔ اس پر کسی کو اس لیے شبہ نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ فارسی بولتی، حجاب پہنتی اور وہ اس محلے کی دوسری عورتوں کی طرح اکثر ایک محرم مرد کے ساتھ چلتی۔ وہ ایک ایسی جگہ رہتی تھی جہاں عموما غریب طبقے کے مزدور خاندان رہائش پذیرہیں۔ اس لیے قانون نافذ کرنے والوں نےاس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ مگر بہ ظاہرایک عام دیہاتی عورت کے روپ میں ایک ایک خطرناک اسرائیلی جاسوس تھی جس کے ذمہ ایران کے جوہری پروگرام جیسے حساس پروجیکٹ کی دستاویزات کا پتا چلانا تھا۔

کتاب کے اسرائیلی مصنفین کے مطابق محافظ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ "عام" خاتون اسرائیلی شہری ہے جس کےپاس انجینئرنگ کی ڈگری ہے، وہ موساد کی ایجنٹ ہے اور موساد کے لیے'بوسیدہ عمارت میں موجود گودام' کی معلومات اکٹھی کرنے کا ایک خطرناک ترین مشن انجام دے رہی ہے۔ اس گودام کی حفاظت پرمامور اہلکاروں نے کبھیاس خاتون پر توجہ نہیں دی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں جوہری معاہدے سے دستبرداری یا واشنگٹن کی جانب سے معاہدے میں باقی رہنے پر گرما گرم بحث عروج پرتھی جب بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیل کی ایرانی جوہری آرکائیو تک رسائی کا اعلان کیا۔اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

دو درجن ایرانی اور اسرائیلی ایجنٹ

کتاب کے چار ابواب میں سے ایک کے مطابق اسرائیلی ایجنٹ کی تحقیقات اور "شور آباد" کے گودام کے بارے میں معلومات جمع کرنے سے بعد میں 24 اسرائیلی اور ایرانی ایجنٹوں کو جنوبی تہران سے جوہری ذخیرہ چرانے کے لیے بھیجنے کا منصوبہ تیار کرنے کا موقع ملا۔ وہاں سےان ایجنٹوں نے شمال مغربی ایران میں جمہوریہ آذربائیجان کے راستے تل ابیب میں موساد کا ہیڈکوارٹرتک ان دستاویزات کو ٹرکوں پر منتقل کیا تھا۔

یہ کتاب دواسرائیلی مصنفین اور صحافیوں کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ یونا جیریمی پاپ ایک فوجی نامہ نگار ہیں جو یروشلم پوسٹ کے لیے اس کے یورپ کے نامہ نگار کے طور پر بھی لکھتی ہیں۔ دوسرے ایلان ایویٹرجو یروشلم پوسٹ کی خبروں کے چیف ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب مشترکہ طور پر مرتب کی ہے۔

اس کتاب کا انگریزی نام "ٹارگٹ تہران" ہے جب مکہ اس کا عبرانی ورژن "تہران میں موساد" کے نام سے شائع ہوا تھا۔

مصنفین کے مطابق ایرانی جوہری ذخیرہ حاصل کرنے کی کوششوں کا آغاز 2016 میں موساد میں شروع ہوا تھا، جب یوسی کوہن نے تمیر پاردو کی سروس کے اختتام پر موساد کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔

کتاب میں "ایرانی جوہری پروگرام کےخالق" کے قتل کا حوالہ

کتاب میں ایران کے جوہری سائنسدان مقتول محسن فخری زادہ کے قتل کے بارے میں موساد کے سابق اہلکاروں کے انٹرویوز شامل ہیں۔ جسے بنجمن نیتن یاہو نے اسی کانفرنس میں "ایرانی ایٹم بم کا باپ" قرار دیا تھا جس میں انہوں نے "اسرائیل کے ایرانی جوہری ذخیرہ کے حصول کے بارے میں بات کی تھی۔ انہوں نے وارننگ کے انداز میں کہا تھا کہ"اس نام کو یاد رکھنا"۔ کچھ ہی عرصے بعد محسن فخری زادہ کو تہران میں قتل کردیا گیا تھا۔

اس کتاب میں اسرائیل سے منسوب کئی دیگر کارروائیوں کی بھی فہرست دی گئی ہے جن کی اس نے کبھی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ان میں 2020ء کے موسم بہار کے آخر میں اور 2020 کے موسم گرما میں نتطز کی جوہری تنصیب پر پراسرار دھماکوں کا سلسلہ شامل ہے۔ یہ ممکن ہے کہ شور آباد میں جوہری دستاویزات کی چوری واحد کارروائی ہو جس کی ذمہ داری اسرائیل نے قبول کی تھی جب کہ باقی واقعات کی ذمہ داری صرف موساد کی تھی مگر اسے کبھی دوسری کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

مصنفین کے مطابق'یوسی کوہن' نے بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ "جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن"، جسے "جوہری معاہدے" کے نام سے جانا جاتا ہے کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی "ضرورت" پر مکمل اتفاق کیا۔ کتاب کے مطابق نیتن یاہو نے کوہن سے کہا کہ یہ دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کافی نہیں ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے، بلکہ ہمیں اس جھوٹ کو ثابت کرنا چاہیے۔

کتاب کے بیانیے میں کہا گیا ہے کہ 'موساد' کو اس وقت ایرانی جوہری آرکائیو کی موجودگی کا علم تھا، لیکن اس کے قطعی مواد ابھی تک راز میں تھے۔ اس لیے یوسی کوہن نے بہرحال اس آرکائیو کو حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

مغربی انٹیلی جنس شواہد نے اسرائیل کی مدد کی

کتاب میں کہا گیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں مغربی انٹیلی جنس سے حاصل کیے گئے کچھ شواہد نے اسرائیل کی مدد کی، لیکن ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو ملک کی سابقہ جوہری دستاویزات تک لامحدود رسائی سے روکنے کی کوششوں نے ایرانیوں کو ان دستاویزات کو "شورآباد" منتقل کرنے پر مجبور کیا۔

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ محسن فخر زادہ نے جوہری دستاویزات کی منتقلی کے لیے شورآباد کی خستہ حال اور عام عمارت کو منتخب کرنے میں ذاتی طور پر حصہ لیا تھا اور انہیں یقین تھا کہ کسی کو ایسی جگہ پر شبہ نہیں ہوگا۔

کتاب میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس سروسز نے سوچا بھی نہیں تھا کہ موساد ایرانی جوہری پروگرام کے اہم عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس نے جوہری دستاویزات کے ذخیرے کے حتمی انکشاف کے قریب جانا شروع کر دیا ہے۔

کتاب میں وضاحت کی گئی ہے کہ جب آرکائیو کے مقام کی تصدیق کی گئی تھی تب بھی بہت سی تفصیلات موجود تھیں جن پر موساد کی طرف سے بات چیت کی ضرورت تھی۔ ان میں یہ بھی کہ کیا یہ دستاویزات درحقیقت ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے ارادوں کو ثابت کرتی ہیں یا نہیں؟ ۔ اس کے بعد موساد کی خاتون ایجنٹ کو تہران کے شور آباد بھیجنے کا خطرہ مول لیا گیا اور خاتون ایجنٹ نے جو کچھ عرصے سے محلے میں رہ رہی تھی نے معلومات جمع کرنا شروع کردیں۔
ان معلومات کی روشنی میں ایران کے جوہری پروگرام کے ریکارڈ تک رسائی یقینی بنی اور موساد کے ایجنٹ وہاں سے بڑی مقدار میں مواد لے کر فرار ہوئے۔

چوبیس ایجنٹوں کو گرین سگنل

کتاب میں کہا گیا ہے کہ جب آپریشن شروع کرنے کے لیے گرین سگنل دیا گیا تو وہ مختلف راستوں سے ایران میں داخل ہوئے۔مقررہ رات کو 24 انٹیلی جنس ایجنٹس پر مشتمل ایک ٹیم جس میں اسرائیلی اور ایرانی بھی شامل تھے شور آباد کے گودام میں اس وقت گئے جب ایرانی گارڈ وہاں نہیں تھے۔ وہ ہر رات اس عمارت کو خالی چھوڑ دیتے تھے۔ اگلی سکیورٹی ٹیم کی آمد سے قبل موساد کے ایجنٹوں کے پاس الارم اور سائرن کو غیر فعال کرنے، تالے توڑنے اوردستاویزات کی منتقلی کے لیے ساڑھے چھ گھنٹے کا وقت تھا۔
کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ 'سردیوں کی اس رات 10:31 بجے، تالے پگھل گئے اور جب ایجنٹوں کا ایک گروپ آس پاس کے علاقوں کی نگرانی کے لیے گودام کے بھاری لوہے کے دروازوں کی حفاظت کر رہا تھا ایک اور گروپ گودام کے اندرونی حصے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

کتاب اس کی کہانی کی تفصیل بتاتی ہے۔ ٹیم کے چوبیس ارکان نے اس عمل کی تکمیل کو تیز کرنے کے لیے اپنی تکنیکی صلاحیتوں کا سہارا لیا۔ دھات کو کاٹنے والی خصوصی مشعلوں کا ایک سیٹ استعمال کیا گیا، جس کا درجہ حرارت تقریباً 3,600 ڈگری تھا۔ گرمی نے دھاتی سیف کو پگھلا دیا اور ٹیم کے دیگر ارکان نے کم اہم دستاویزات کو نظر انداز کرکے اہم دستاویزات کو اٹھانا شروع کیا۔

دستاویزات کا ذخیرہ آذربائیجان کے راستے اسرائیل پہنچایا گیا

مصنفین کا دعویٰ ہے کہ اس وقت ایجنٹوں نے دیکھا کہ وہ ایک "بہت بڑے خزانے" پر پہنچ چکے ہیں، جس میں کاغذی فائلوں، چارٹس اور نقشوں کے علاوہ 100 سے زائد سی ڈیز بھی شامل ہیں جن میں ایرانی جوہری پروگرام کی فائلیں اور دستاویزی فوٹیج شامل ہیں۔ ان میں مختلف جوہری تجربات کی تصاویر اور نقشوں کا ذخیرہ بھی شامل تھا۔

کتاب میں مزید کہا گیا ہے اس کے بعد آدھا ٹن ڈسک اور دستاویزات دو ٹرکوں میں بھیجا گیا جو تہران کے وقت کے مطابق صبح ٹھیک پانچ بجے شور آباد گودام سے نکلے اور مختلف راستوں سے جمہوریہ آذربائیجان کی سرحدوں کی طرف روانہ ہوئے۔

کتاب میں کہا گیا ہے کہ ’’ڈھائی گھنٹے کے بعد ایرانی محافظ گودام پر پہنچے اورتو انہیں وہاں ہونے والی واردات کا علم ہوا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، کیونکہ دونوں ٹرک سرحد پار کر چکے تھے۔ کتاب کے مطابق "پیچیدہ دھوکہ" کی طرز کے آپریشن میں دستاویزات کو ملک سے باہر نکالنے کے بعد ایران کے اندر موجود ایرانی اور اسرائیلی ایجنٹوں کو نکالا گیا۔ دستاویزات اسی رات آذربائیجان سے اسرائیل منتقل کردی گئیں مگران کی چھان بین میں اڑھائی ماہ کا وقت لگا جس کے بعد نیتن یاھو نے ان دستاویزات کے حصول کا اعلان کیا۔

ایران نے اسے کبھی تسلیم نہیں

قابل ذکر ہے کہ اس لمحے تک ایران نے اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری دستاویزات کی چوری کا سرکاری طور پر اعتراف نہیں کیا ہے، جب کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے نیتن یاہو کی کانفرنس کے اگلے ہی روز ایک بیان میں ایران کی عسکری جہت کے ساتھ سرگرمیوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو سال 2003 سے قبل ہوئی تھیں۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے اور بار بار سپریم لیڈر کے اس فتوے کا حوالہ دیتا ہے جو جوہری ہتھیاروں کی "پیداوار اور استعمال کوحرام قرار دیتے ہیں"۔

وہ یورپی ممالک جنہوں نے امریکہ کے برعکس جوہری معاہدے سے دستبردار نہیں ہوئے، اس وقت نیتن یاہو کی کانفرنس کے بعد بھی اس بات کا تذکرہ کیا کہ انہوں نے جو کچھ پیش کیا اس سے ان ممالک کے پاس پہلے کی باتوں کی تصدیق ہوتی ہے، جس کی وجہ سے جوہری معاہدے کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں