رفح میں اسرائیلی فوجی کارروائی نے جنگ بندی مذاکرات کھٹائی میں ڈال دیے: قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جیسے ہی اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح میں اپنی کارروائیاں تیز کی ہیں قطری وزیر اعظم الشیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نےزور دے کر کہا ہے کہ رفح میں اسرائیلی آپریشن نے جنگ بندی کے مذاکرات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

انہوں نے منگل کو ایک بیان میں مزید کہا کہ ان کا ملک اسرائیل اور حماس کے درمیان اپنا ثالثی کا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نے چیلنجوں کے باوجود ثالثی نہیں روکی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔ ان کا اشارہ غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کی طرف تھا۔

لیکن انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی پوزیشن واضح نہیں ہے۔

بات چیت میں خلل

قطری وزیراعظم کی طرف سےیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب رفح میں اسرائیلی فوجی کارروائی نہ صرف جاری ہے بلکہ اسرائیل نے کارروائی کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔

وسطی غزہ میں جبالیا سے
وسطی غزہ میں جبالیا سے

اسرائیلی فوج کےٹینک آج صبح شہر کے مشرق میں گھس آئے اور الجیننہ، السلام اور برازیل کے محلوں میں داخل ہوگئے۔

واشنگٹن، دوحہ اور قاہرہ کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کا آخری دور ناکام ہو گیا۔ ان کوششوں کا مقصد ایک ایسی جنگ بندی تک پہنچنا تھا جس کے ذریعے غزہ کی پٹی میں یرغمال اسرائیلیوں کی رہائی اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کو ممکن بنایا جاتا تاہم دونوں فریقین نے ایک دوسرے کی تجاویز سے اتفاق نہیں کیا۔

حماس نے اعلان کیا کہ اس نے جنگ بندی کے حوالے سے ثالثوں کی تجویز پر اتفاق کیا ہے تاہم اسرائیل نے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں