سعودی شہری 30سالہ خدمت کا صلہ دینے ملازمہ کی شادی میں انڈونیشیا پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک شہری نے اپنے گھر میں کام کرنے والی ملازمہ کی شادی میں شرکت کے لیے انڈونیشیا کا سفر کیا اور اس کے گھرپہنچ گئے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں نوجوان سعودی شہری ریاض العطیہ کی انڈونیشیا میں اپنی ملازمہ کی اس کے شوہر سے شادی کی فوٹیج نشر کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ریاض العطیہ نے بتایا کہ'خالہ میری ہمارے گھر میں ایک ملامہ ہی نہیں رہیں بلکہ میں دو سال کا تھا جب انہوں نے میری پرورش اور نگہداشت شروع کی۔ انہوں نے ہمارے گھر میں تیس سال کام کیا۔ طویل عرصےتک ہمارے گھرمیں کام کرنے پرہم ان کے احسان مند ہیں اور ہم اس احسان کو واپس کرنے کے لیے اس کی شادی میں شرکت ایک معمولی بدلہ ہے۔ اس نے ہمیں خوش کیا اور ہم اسے خوش کریں۔ میری نے ہماری بیمار اور معذور والدہ کی خدمت کی مگر ہم اس کی خدمت کا صلہ نہیں دے سکتے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "سعودی بشت میں میری کی شادی میں شرکت کے بارے میں مجھے ایسے ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ میں ان کو واپس ساتھ سعودی عرب واپس لاؤں گا تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ اس کے لیے ایک الگ گھر تیار کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا کے علمبرداروں کا تعامل

سوشل میڈیا صارفین نے بشت پہنے سعودی نوجوان کی ویڈیو پر ملا جلا رد عمل دیا ہے۔ ایک تصویر میں ملازمہ نے اس کا بازو اس وقت تک پکڑ رکھا تھا جب تک وہ اپنے شوہر کے پاس نہیں پہنچی۔بعد ازاں وہ نوکرانی، اس کا شوہر اور سعودی نوجوان شادی کے پلیٹ فارم پر گئے اور انہوں نے یادگاری تصاویر لیں۔

سعودی شہری نے اسے سونے اور نقدی تحائف پیش کیے اور شادی کے شرکاء کی موجودگی میں استقبالیہ جملے کہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں