عراقی مسلح دھڑوں کا اسرائیل کےایلات شہر پر ڈرون حملے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی مسلح دھڑوں نے پیر سے منگل کی درمیانی شب اعلان کیا کہ انہوں نے دو ڈرونز کے ذریعے جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات کو نشانہ بنایا ہے۔

اپنے آپ کو عراق میں 'اسلامی مزاحمت' کہنے والے دھڑوں نے بتایا کہ غزہ کی پٹی پراسرائیلی جنگ کے جواب میں انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اسرائیل کی طرف سے اس نوعیت کے کسی بھی حملے پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا۔

غزہ پر جنگ کے تناظر میں دو امریکی عہدیداروں نے 'سی این این' کو بتایا کہ اسرائیل نے رفح شہر کے مضافات میں آنے والے دنوں میں ایک جامع کارروائی کے لیے فوج کی بڑی تعداد کو متحرک کردیا ہے۔

لیکن یہ غیر یقینی ہے کہ آیا اسرائیل نے رفح پر ایک جامع حملہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، کیونکہ یہ حملہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ کے لیے ایک براہ راست چیلنج ہوگا جو رفح میں وسیع فوجی کارروائی کے سخت خلاف ہیں۔

اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران رفح سے 360,000 فلسطینی فرار ہوئے۔ یہ ان 13 لاکھ فلسطینیوں میں شامل ہیں جنہوں نے غزہ کے دوسرے علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران رفح میں پناہ لی تھی۔

گذشتہ ہفتے کے دوران اسرائیلی فوج نے رفح میں بمباری اور دیگر کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی تھی اور ساتھ ہی شہر میں پھنسے لاکھوں لوگوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔

دوسری طرف امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے اپنے مصری ہم منصب سامح شکری کے ساتھ ایک کال میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں کسی بڑے زمینی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے رفح سے شہریوں کی جبری نقل مکانی کو بھی مسترد کردیا ہے۔

دونوں وزراء نے ان اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جن کا مقصد غزہ تک انسانی رسائی کو بڑھانا، رفح بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنا اور کریم شالوم کراسنگ کو زیادہ سے زیادہ حد تک استعمال کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں