غزہ پر اسرائیلی جنگ کے تسلسل نے عالمی نظام کو کمزور کر دیا:سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نےغزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی ایک بار پھرمذمت کی ہے۔ مملکت کی طرف سے یہ رد عمل غزہ کے جنوبی شہر رفح کے اندر اسرائیلی ٹینکوں کی مزید دراندازی کے بعد سامنے آیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اگلی جمعرات کو بحرین میں ہونے والے 33ویں عرب سربراہی اجلاس کی تیاریوں کے لیے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ "اسرائیلی جنگی مشین اپنی جارحیت اور تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بین الاقوامی احتسابی میکانزم کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے قوانین اور اصولوں کی پرواہ کیے بغیراسرائیل نے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر اپنی جارحیت میں اضافہ کردیا ہے"۔
ٓ
انہوں نےاس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں نے بین الاقوامی نظام کے قوانین اور اداروں کی ساکھ کو کمزور کیا اور بین الاقوامی اداروں کی بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے میں مکمل طور پر نااہلی کا ثبوت دیا ہے۔

بین الاقوامی حمایت کو متحرک کرنے پر زور

سعودی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ "مملکت نے فلسطینی عوام پر اندھا دھند حملوں کے آغاز سے ہی برادر اور دوست ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیلی جنگ روکنے کے لیے کام کیا ہے، تاکہ وحشیانہ اسرائیلی حملوں کو روکنے اور اس کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے بین الاقوامی حمایت کو متحرک کرنے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ "سعودی عرب نے غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کی اور اس وزارتی فالو اپ کمیٹی میں شرکت کی جس نے فلسطینی عوام کی حمایت میں ایک متفقہ موقف پیش کرنے کے لیے سب سے زیادہ بااثر دارالحکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کا سفر کیا۔

آج عرب وزرائے خارجہ ان ایجنڈے کے آئٹمز پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جو جمعرات کو ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران بحث اور منظوری کے لیے عرب رہ نماؤں کو پیش کیے جائیں گے۔

یہ متوقع سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب غزہ پر اسرائیل کی خونریز جنگ 7 ماہ سے جاری ہے اور اس میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں