غزہ کے باشندوں کو امداد دینے کے بجائے نکال باہر کیا جائے:اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے داخلی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر نے ایک بار پھر فلسطینیوں بالخصوص غزہ کی پٹی کے حوالے سے اپنے نسل پرستانہ بیانات کو دہرایا ہے۔

اسرائیلی وزیر بین گویر نے غزہ پر قبضہ کرنے، مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر آباد کاروں کے حملوں کی حمایت ،غزہ کی پوری آبادی کو بے گھر کرنے اور ان سے نجات حاصل کرنے کے نسل پرستانہ بیانات ایک بار پھر دہرائے۔

غزہ کے مضافات میں سدیروت بستی کے دورے کے دوران انتہا پسند وزیر نےکہا کہ "7 اکتوبر کے حملوں کا اعادہ روکنے کے لیے، اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں واپس آنا چاہیے اور اس پر قبضہ کرنا چاہیے، جہاں تک وہاں کے فلسطینی باشندوں کی بات ہے تو انہیں کسی دوسرے ملک میں آباد کرنا چاہیے"۔

انہوں نے غزہ میں آبادکاری کو فعال کرنے، پٹی کے باشندوں کو رضاکارانہ طور پر وہاں سے نکالنے اور دوسرے ممالک کو ڈی پورٹ کرنے کی ترغیب دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

اسرائیلی وزیر نے نہ صرف غزہ کے باشندوں کو وہاں سے نکالنے پر زور دیا بلکہ کہا کہ وہ غزہ میں امدادی ٹرک بھیجنے کے حامی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو کرم ابو سالم کراسنگ سے امدادی ٹرک غزہ نہیں بھیجنے چاہئیں۔

انہوں نےمزید کہا کہ"اگر وہ انسانی امداد چاہتے ہیں تو انہیں حراست میں لیے گئے افراد کو واپس کرنا ہو گا۔ خیال رہے کہ ایتمار بین گویر کا غزہ کو امداد روکنے کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب گذشتہ روز "زاف 9" ایک انتہا پسند اسرائیلی گروپ نے غزہ کو امدادی سامان پہنچانے والے ٹرکوں پر حملہ کرکے بڑی مقدار میں سامان کو تلف کردیا۔ اس سامان میں کھانے پینے کی اشیاء، جس میں اناج، چاول، آٹا، بسکٹ کے پیکٹ اور خشک سوپ شامل تھے کو زمین پر پھینک کر انہیں روند دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں