اسرائیل نے ثالثوں کو جواب دینے کے بجائے رفح پرفوج کشی کردی:حماس کا امریکہ کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تحریک پر دباؤ کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے اس نے نہیں بلکہ اسرائیل نے فرار اختیار کیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ ہم نے ثالث ممالک کی جنگ بندی کی تجویز قبول کی مگر اسرائیل نے ثالث ممالک کو جواب دینے کے بجائے رفح پر فوج چڑھا دی۔

کل سوموار کو جیک سلیوان نے حماس پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور معاہدے کی منظوری کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "ہم نہیں مانتے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے۔ ہم نے اس مفروضے کو دوٹوک انداز میں رد کر دیا ہے"۔

"رفح پر حملہ غلطی"

سلیوان نے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر حملے کے حوالے سے واشنگٹن کے بیان کردہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے وہاں کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی "غلطی ہو گی۔"

امریکی اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’اگر حماس اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر دے تو کل جنگ بندی ممکن ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ جنگ بندی تک پہنچنے اور قیدیوں کی رہائی کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری کوششیں کب تک رنگ لائیں گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی سے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات اس وقت ناکام ہوگئے تھے جب اسرائیل نے ثالث ممالک کی طرف ے تجویز کردہ نکات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم حماس نے ڈرامائی انداز میں جنگ بندی کی تجاویز کو قبول کرلیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں