اسرائیلی جنگی محاذ اور مشرق وسطیٰ ، اعلی امریکی وفد اسی ہفتے سعودی عرب جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن کے سلامتی سے متعلق اہم ترین عہدے دار اسی ہفتے کے اختتام تک سعودی دورے پر ریاض پہنچیں گے۔ اعلیٰ ترین سطح کے اس امریکی وفد کے دورے کا مقصد خطے کی موجودہ صورت حال اور مستقبل کے بارے میں اپنے اہم ترین عرب اتحادی کے ساتھ مشاورت اور تعاون کے فروغ کی راہیں تلاش کرنا ہے۔

امریکی ذرائع کے مطابق غزہ میں جنگ کے اس مرحلے میں جبکہ جنگ کا دائرہ غزہ کی پٹی سے مصری سرحد پر واقع رفح شہر کی طرف بھی پھیل گیا ہے اور لبنان سمیت یمن کی جانب سے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرات میں کمی نہیں ہو رہی ہے۔ اس امریکہ کے اعلیٰ سطح کے وفد کے دورے کی اہمیت کافی زیادہ ہو گئی ہے۔

خیال رہے امریکی صدر جوبائیڈن کے قومی سلامتی سے متعلق مشیر جیک سلیوان کا پچھلے ماہ کے دوران سعودی عرب کا دورہ طے تھا ، حتیٰ کہ ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات بھی طے ہو چکی تھی۔ مگر جیک سلیوان کی صحت کا ایک اچانک مسئلہ سامنے آنے کے باعث ان کا یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا۔

رواں ماہ خطے میں پیدا شدہ صورت حال میں اس دورے کو نئے سرے سے شیڈول کیا گیا ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے ساتھ صدر جوبائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے لیے اعلی ترین معاون بریٹ مک گرک اور ہوچیسٹئین اس امریکی وفد میں شامل ہوں گے۔

یہ اس تناظر میں اور خطے کی مستقبل میں نقشہ کشی کے لیے اہم دورہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کہ ایک جانب اسرائیل کی غزہ جنگ کے آٹھویں ماہ میں داخل ہونے کے بعد اب رفح بھی اسرائیلی جنگ کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ جبکہ لبنانی ملیشیا اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں میں کمی کا کوئی اشارہ نہیں جیسا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بھی حالیہ مذاکراتی دور بھی بے نتیجہ ثبات ہو چکا ہے۔

ایسے میں امریکہ نے اپنا اعلی ترین وفد سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ، کہ خود امریکہ میں صدارتی انتخابات کی منزل قریب تر آ رہی ہے۔ جوبائیڈن انتظامیہ نہیں چاہتی کہ وہ اس مرحلے میں اس طرح داخل ہو کہ اس کے پاس اپنے ووٹروں کو دکھانے کے لیے کچھ نہ ہو۔ خصوصاً مشرق وسطیٰ کے حوالے سے۔

اس لیے امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنی بہترین ٹیم کو سعودی عرب کے ساتھ مشاورت اور تعاون سے آگے فیصلہ سازی کی ضرورتوں کے لیے بھیجنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ ہوچیسٹئین اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر امریکہ کے لیے اہم ٹاسک کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی توانائی پالیسی کے لیے بھی صدر جو بائیڈن کو اپنی رائے دیتے ہیں۔

اس سے قبل جیک سلیوان نے اکیلے مملکت کے دورے پر جانا تھا اور مملکت کے ساتھ کئی موضوعات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ مگر وہ بوجوہ نہ آسکے۔ بلاشبہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کی نارملائیزیشن کا امریکی ہدف سات اکتوبر کے بعد ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔ سعودی عرب کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے جب تک کوئی عملی پیش رفت نہ ہو اسرائیل کے ساتھ معاملات کو نارمل کرے۔

جیسا کہ ریاض کی طرف سے یہ کہا جا چکا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نارملائیزیشن کی چاپی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی وفد کے دورے کے دوران سعودی عرب کے لیے جوہری توانائی کے منصوبے کی بھی خاص اہمیت ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں