عرب لیگ کی تعلیمی، ثقافتی و سائنسی تنظیم کا اجلاس جدہ میں شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عرب لیگ کی تعلیمی، ثقافتی و سائنسی تنظیم (الیکسو)کی ایگزیکٹو کونسل کے 121ویں اجلاس کے آغاز کے لیے منگل کو 22 عرب ممالک کے وزراء اور دیگر نمائندگان جدہ میں جمع ہوئے۔ دو روزہ اجلاس بدھ کو ختم ہوگا اور اس کے بعد جمعہ کو تنظیم کی جنرل کانفرنس ہوگی۔

سعودی پریس ایجنسی نے اطلاع دی کہ قومی کمیٹی برائے تعلیم، ثقافت و سائنس کی میزبانی میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران شرکاء ان اہم موضوعات، اقدامات اور تجاویز پر تبادلۂ خیال کریں گے جو تنظیم کے ڈھانچے کے اندر علم کے اشتراک، سائنسی ترقی اور اختراع سے متعلق ہوں۔

افتتاحی اجلاس کے دوران ایگزیکٹو کونسل کے چیئرپرسن ہانی المقبل نے فلسطینیوں کو درپیش موجودہ بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا جو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے واضح طور پر ایک بے مقصد اور وحشیانہ تنازعہ کی مذمت کی اور اسے مسترد کیا جس میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت لاتعداد شہریوں کی جانیں گئیں۔ اور انہوں نے اسرائیلی فوجی مہم کے نتیجے میں ہسپتالوں، مذہبی مقامات، سکولوں، ثقافتی اداروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تباہی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

سعودی صدارت کی قیادت میں کونسل نے غزہ میں جاری جارحیت، قبضے اور جبری نقلِ مکانی کی شدید مذمت کا اظہار کیا۔ المقبل نے کہا کہ ایسے تأثرات محض طریقۂ کار پر مبنی یا علامتی نہیں ہیں بلکہ یہ عرب اتحاد کو فروغ دینے، بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنے اور مشترکہ اقدار کو تقویت دینے کے لیے آگے کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، اس طرح عرب ممالک چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹ سکتے ہیں اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کر سکتے ہیں۔

الیکسو کے ڈائریکٹر جنرل محمد اولد امر نے عالمی سطح پر عرب ممالک کے ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے تنظیم کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظریئے کو مدِنظر رکھتے ہوئے الیکسو نے متعدد ممالک کے ساتھ اس مقصد کے تحت کام کیا ہے کہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی انتہائی معزز فہرست میں ان کے مزید ثقافتی خزائن کو شناخت ملے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ ان کوششوں میں فعال مصروفیت کی ایک مثال یہ ہے کہ الیکسو نے فروری میں متحدہ عرب امارات میں یونیسکو کے ثقافت اور تعلیم کے وزراء کی کانفرنس میں حصہ لیا۔

افتتاحی دن پر زیرِ بحث دیگر موضوعات میں عرب ممالک کو تعلیم، ثقافت اور سائنس کے شعبوں میں درپیش چیلنجز، مسائل کے جدید ممکنہ حل اور نئی شراکت داری قائم کرنے کے طریقے شامل تھے جو تعلیم اور سوچ کے افق کو وسیع کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں