اردنی شہری نے ایک سالہ بیٹی کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر مار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن میں ایک سفاک باپ نے اپنے سالہ بیٹی کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر قتل کردیا۔ اس خوفناک اور گھناؤنے جرم کی تفصیلات سامنے آنے پر ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔

بچی کا باپ ایک شرابی ہے۔ اس نے پہلے اپنی بیٹی کے پاؤں کھولتے ہوئے ڈالے ۔ یہ جرم کرتے ہوئے باپ نشے میں دھت تھا۔ نقصان کےخ قابو سے باہر ہونے کے احساس کے ساتھ ہی اس نے اپنی گھناؤنی حرکت کو مزید خطرناک جرم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور بغیر کسی وجہ سے پوری بچی کو ابلتے ہوئے پانی میں پھینک دیا۔

اس جرم کا ارتکاب 30 اپریل 2024 کو کیا گیاتھا۔ اردنی پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے میڈیا ترجمان کرنل عامر سرطاوی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ شیر خوار کو شمالی اردن میں اربد گورنریٹ کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا تھا۔ گرم پانی کے گرنے کے نتیجے میں اس کے نچلے حصہ جل گیا تھا۔

کرنل سرطاوی نے بتایا کہ واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ بچی کے جلنے کی وجہ اس کا والد ہے اور وہ نشے کی حالت میں بچی کو لے کر آیا تھا۔ اس نے اپنی والدہ کو دھمکی دی تھی کہ وہ کسی کو مت بتائے۔ انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والی بچی کے والد کو گرفتار کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ بعد ازاں نے بدھ کی صبح بچی ہسپتال میں دم توڑ گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں