اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے میں تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا: فلسطینی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کی صبح فلسطینی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ صحت نے اے ایف پی کو بتایا کہ علاقے کے شمال مغرب میں واقع قصبے طولکرم میں اسرائیلی افواج اور فلسطینی کارکنان کے درمیان تصادم کے دوران متعدد دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

وزارت نے کہا، "طولکرم میں قابض فوج کی گولیوں سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔"

اتھارٹی نے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 26 سالہ ایمن احمد مبارک، 22 سالہ حسام عماد داباس اور 27 سالہ محمد یوسف نصر اللہ کے نام سے کی ہے۔

سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی وافا کے مطابق نصف شب کے فوراً بعد قصبے پر اسرائیلی حملے کے دوران یہ تینوں افراد مارے گئے۔

دن کے اوائل میں وزارتِ صحت نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے رام اللہ کے مضافات میں ایک چوکی پر ایک نوجوان کو سالانہ مارچ کے فوراً بعد ہلاک کر دیا جسے فلسطینی نقبہ یا 1948 کی "تباہی" کہتے ہیں۔

اسرائیل کے قیام کی 76ویں سالگرہ کی یاد میں ہزاروں افراد نے مغربی کنارے میں مارچ کیا جب تقریباً 760,000 فلسطینیوں کو بھاگنے پر مجبور کیا گیا اور جنگ کے دوران ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔

اس ہفتے کی سالگرہ غزہ میں اسرائیل کی شدید جنگ کے پس منظر میں آئی ہے۔ اِس جنگ نے بھی پٹی کی زیادہ تر آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔

سات اکتوبر کے حملے کے بعد سے مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

جمعرات کو اعلان کردہ تین اموات سمیت فلسطینی وزارتِ صحت کی گنتی کے مطابق سات اکتوبر سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں اور آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم 502 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں