رفح آپریشن میں ہفتوں لگیں گے: اسرائیلی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی میں رفح میں فوجی کارروائی پر تاریخی اتحادی امریکہ کے ساتھ تناؤ کو تسلیم کیا اور کہا کہ یہ آپریشن اسرائیلی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے بدھ کو سی این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ رفح آپریشن میں ہفتوں لگیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم امریکہ سے اتفاق کر سکتے ہیں۔ ہم ان سے بات چیت کرتے ہیں لیکن آخر میں ہم وہی کرتے ہیں جو ہمیں اپنی قوم کی جانوں کے تحفظ کے لیے کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہم امریکہ کی جانب سے بعض بموں کو روکنے کے مسئلے کو حل کرسکتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ امریکی فوجی مدد حاصل کر لی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کا مقصد حماس کی باقی چار بٹالین کو تباہ کرنا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ نے حکومت سے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی حکمرانی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ گیلنٹ نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجی حکمرانی کی کھلی مخالفت کریں گے۔

گیلنٹ نے ایک ٹیلی ویژن پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ اکتوبر میں تنازع شروع ہونے کے فوراً بعد انہوں نے انتظامیہ کی تشکیل کے منصوبے کی حمایت کی۔ یہ ایک نئی فلسطینی حکومت ہو جس کا حماس سے کوئی تعلق نہ ہو۔ لیکن مجھے اسرائیلی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔

تل ابیب میں نیتن یاہو اور بلنکن کی ملاقات کا منظر
تل ابیب میں نیتن یاہو اور بلنکن کی ملاقات کا منظر

رفح پر حملہ

اس ماہ کے شروع میں اسرائیل نے رفح پر اپنا حملہ شروع کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رفح میں 14 لاکھ بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ اسرائیل سات اکتوبر کو حماس کے اچانک حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی پر بربریت جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تک 222 دنوں کے دوران 35233 فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔

امریکہ اور دیگر ملکوں نے حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ کے دوران کراس فائر کے دوران فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے اور رفح پر اسرائیلی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل نے بارہا کہا ہے کہ اس کا تنازعہ حماس کے خلاف ہے اور وہ غیر جنگجوؤں کو نشانہ نہیں بنا رہا ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے کہا تھا کہ شہریوں کے تحفظ کے کسی قابل اعتماد منصوبے کی عدم موجودگی میں واشنگٹن رفح میں فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کر سکتا۔

یورپی یونین کے چیف ڈپلومیٹ جوزپ بوریل نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر کہا کہ یورپی یونین اسرائیل پر زور دیتی ہے کہ وہ رفح میں اپنا فوجی آپریشن فوری طور پر بند کر دے۔ یہ آپریشن مزید اندرونی نقل مکانی، قحط اور انسانی مصائب کا باعث بن رہا ہے۔

کشیدگی میں اضافہ

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث پورے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل اور لبنان کی سرحدوں پر حزب اللہ اور صہیونی فوج کے درمیان فائرنگ اور حملوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ یمن میں حوثی گروپ کے حملوں کی وجہ سے سمندری تجارت میں خلل پڑ گیا ہے اور اس کی وجہ سے یہ تنازع عالمی منڈیوں تک بھی پھیل گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں