رفح سے تقریباً 500,000 افراد کا انخلاء، کوئی 'انسانی تباہی' نہیں ہوئی: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بدھ کو کہا کہ غزہ کے دور دراز جنوبی شہر رفح سے تقریباً 500,000 افراد کو نکال لیا گیا تھا اور وہاں "انسانی تباہی" کے وسیع پیمانے پر خدشات کو مسترد کر دیا۔

بینجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، "ہماری ذمہ دارانہ کوششیں بار آور ہو رہی ہیں۔ اب تک رفح میں تقریباً نصف ملین افراد جنگی علاقوں سے نکال دیئے گئے ہیں۔"

بین الاقوامی برادری بشمول اسرائیل کے اعلیٰ ترین اتحادی واشنگٹن نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ رفح میں زمینی کارروائی شروع کرنے سے باز رہے جہاں 1.4 ملین افراد پناہ گزین ہیں۔

لیکن نیتن یاہو نے اصرار کیا کہ "جس انسانی تباہی کے بارے میں بات کی گئی تھی وہ پوری نہیں ہوئی اور نہ ہو گی۔"

اسرائیل نے گذشتہ ہفتے انتباہات کے ایک تسلسل کو مسترد کیا - بشمول امریکہ کا انتباہ جس نے بموں کی ترسیل روک دی - اور مزاحمت کاروں کا تعاقب کرنے کے لیے رفح کے مشرق میں فوج اور ٹینک بھیجے۔

اقوامِ متحدہ نے منگل کو کہا کہ رفح سے تقریباً 450,000 لوگ بے گھر ہو چکے تھے جب سے اسرائیل نے پہلی بار 6 مئی کو گورنری کے مشرقی علاقوں سے انخلاء کے احکامات جاری کیے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا کہ شمالی غزہ میں از سرِ نو لڑائی کے دوران مزید 100,000 افراد اپنے گھروں سے فرار ہو گئے جس کا مطلب ہے کہ غزہ کی ایک چوتھائی آبادی صرف ایک ہفتے کے اندر دوبارہ بے گھر ہو گئی۔

نیتن یاہو نے کہا، "ہماری افواج پورے غزہ کی پٹی میں لڑ رہی ہیں۔" نیز انہوں نے کہا، "ہم شہری آبادی کو نکاتے ہوئے یہ کر رہے ہیں

اور اس کی انسانی ضروریات کے لیے اپنے عزم کو پورا کر رہے ہیں۔"

’فتح کا کوئی متبادل نہیں‘

اسرائیلی وزیر اعظم نے حماس کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے عزم کو دوگنا کر دیا ہے جس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر غیر معمولی حملے جنگ کی وجہ بنے۔

انہوں نے کہا، "حماس کا خاتمہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک ضروری قدم ہے کہ 'کل' کو غزہ میں کوئی ایسا عنصر نہ ہو جس سے ہمیں خطرہ ہو۔"

نیتن یاہو نے کہا کہ جب تک کہ حماس اس علاقے میں موجود ہے، جنگ کے بعد غزہ پر حکمرانی سے متعلق تیاریوں پر کوئی بھی بات چیت محض "خالی بات" ہے۔

انہوں نے کہا، ان کی حکومت "مہینوں سے اس پیچیدہ مسئلے کا حل تلاش کرنے" کی کوشش کر رہی ہے جسے "حاصل کرنے کے لیے وہ پرعزم ہے۔"

انہوں نے کہا، "جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ حماس غزہ پر عسکری طور پر کنٹرول نہیں رکھتی، کوئی بھی ادارہ اپنی سلامتی کے خوف سے غزہ کا سویلین انتظام سنبھالنے کو تیار نہیں ہوگا۔"

"اس لیے حماس کے اقتدار میں رہنے تک 'کل' کے بارے میں بات چیت صرف خالی باتیں ہی رہیں گی۔"

انہوں نے زور دیا کہ "فوجی فتح کا کوئی متبادل نہیں ہے" اور یہ کہ کوئی بھی خیال کہ اسرائیل فتح کے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے "حقیقت سے دور ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں