سعودی ولی عہد کی 33ویں عرب سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے منامہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز شاہ سلمان کی ہدایت پر بحرین میں ہونے والے 33 ویں عرب سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے منامہ پہنچ گیئے ہیں۔ اجلاس میں شرکت کے لیےان کے ہمراہ اعلیٰ حکام کا ایک وفد بھی شامل ہے۔

منامہ میں منعقدہ 33واں عرب سربراہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دوسری جانب مسئلہ فلسطین غزہ جنگ کی وجہ سے 'فلیش پوائنٹ' بن چکا ہے۔ سعودی عرب سمیت عالمی سطح پر غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ روکنے کی تمام مساعی غیر موثر ثابت ہوئی ہیں۔

یہ سربراہ اجلاس غیر معمولی حالات میں منعقد ہوا ہے۔اس کے مجوزہ ایجنڈے میں 8 اہم آئٹمز شامل ہیں جن میں سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی، میڈیا اور سکورٹی کے شعبوں میں عرب ممالک کے درمیان تعاون کے امور شامل ہیں۔

عرب رہ نماؤں کو پیش کی گئی فائلوں کا تقریباً 70 فیصد سیاسی نوعیت کے موضوعات ہیں۔ خاص طور پر خطے کے متعدد بحرانوں،غزہ کی صورتحال اور خطے میں اس کے اثرات پر غور کیا جائے گا۔

سربراہ اجلاس کے ایجنڈے میں عرب امور اور قومی سلامتی سے متعلق ایک موضوعات بھی شامل ہیں۔ ان میں لبنان کے ساتھ یکجہتی، شام کی صورت حال میں پیش رفت، سوڈان میں امن اور ترقی کی حمایت، لیبیا کی صورت حال میں پیشرفت اور یمن کی صورت حال پربھی غور کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں