غزہ کے مستقبل کے لیے حماس کے بغیر کسی انتظامی منصوبے کو تسلیم نہیں کریں گے:ھنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اسرائیل کو موجودہ تعطل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثوں کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز میں ان کی ترامیم مذاکرات کے خاتمے کا باعث بنیں۔

ہنیہ نے غزہ میں جنگ کے بعد کی کسی بھی ایسے تصفیے کو مسترد کر دیا جس میں تحریک کو شامل نہیں جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس اپنے مطالبات پر قائم ہے کہ کسی بھی جنگ بندی میں محصور پٹی میں جنگ کا خاتمہ اس کا دیرینہ مطالبہ ہے۔

"حماس کا فیصلہ"

ہنیہ نے نکبہ کی 76 ویں برسی کے موقع پر ایک تقریر میں مزید کہا کہ جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کا انتظام کچھ ایسا ہے جس کا فیصلہ حماس"قومی برادری" کے ساتھ کرے گی اور حماس "جنگ کو روکنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔ ہم جنگ روکنے کے لیے ثالث ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

ہنیہ کا یہ بیان غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد یا نام نہاد "جنگ کے بعد" کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام پر اسرائیلی فوج اور حکومت کے درمیان ہونے والی بحث کے درمیان سامنے آیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ "جنگ کے بعد کے دن کے انتظامات کے بارے میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، جب تک کہ حماس غزہ میں برسراقتدار رہے گی تو کوئی بھی فیصلہ وہی کرے گی۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے اس بیان کا جواب دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ کے بعد فوج رکھنے کی تجویز سےمتفق نہیں کیونکہ ایسا کرنےسے غزہ میں موجود فوجیوں کی جانیں خطرے میں رہیں گی۔

"جنگ بندی مساعی سے اسرائیل کا فرار"

حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تحریک پر دباؤ کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا مذاکرات سے فرار اسرائیل نے اختیار کیا ہے۔ حماس نے جنگ بندی کی تجاویز قبول کیں مگراسرائیل نے مسترد کرکے رفح پر چڑھائی کردی۔


حماس پر دباؤ

پیر کو سلیوان نے حماس پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور معاہدے کی منظوری کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ "ہم نہیں مانتے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے۔ ہم نے اس مفروضے کو دوٹوک مسترد کر دیا ہے"۔

سلیوان نے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر حملے کے حوالے سے واشنگٹن کے بیان کردہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے وہاں کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی "غلطی ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں