جنگ کے بعد غزہ میں ملٹری حکومت کےاسرائیلی منصوبے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی اخبار' ٹائمز آف اسرائیل' اخبار نے کہا ہے کہ سینیر سکیورٹی حکام نے حال ہی میں حماس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی حکومت کے قیام کی لاگت کا تخمینہ لگانے کی درخواست کی تھی، جس کے اندازے کے مطابق یہ لاگت 20 ارب شیکل سالانہ تک پہنچ جائے گی۔

اخبار نے ایک سرکاری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ فوجی حکومت کے قیام کے اخراجات کے علاوہ اسرائیل کو ایک ایسی قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی جو ابھی تک پٹی میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے طے نہیں کی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوجی حکومت میں کام کرنے کے لیے تقریباً 400 افراد کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی پانچ بٹالین باقی رہیں گی، جس کے لیے اسرائیل کو شمالی محاذ اور مغربی کنارے میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کرنا پڑے گی۔

سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے نتیجے میں 1,170 سے زائد افراد مارے گئے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔

اس حملے کے دوران، 250 سے زائد افراد کو اغوا کیا گیا، جن میں سے 128 اب بھی غزہ میں زیر حراست ہیں، اور اسرائیلی حکام کے مطابق، ان میں سے 38 ہلاک ہو گئے۔

اس حملے کے جواب میں اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں تباہ کن بمباری کی مہم اور زمینی کارروائیاں کر رہی ہے جہاں اب تک 35,272 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔

اسرائیل نے اچانک غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کے فلسطینی حصے کا کنٹرول سنبھال لیا جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے رفح میں کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

ذرائع ابلاغ نے مصری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قاہرہ نے کراسنگ کے انتظام کے حوالے سے رابطہ کاری کی اسرائیلی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔

کراسنگ بند ہونے کے بعد اس کے ذریعے کوئی امداد غزہ میں داخل نہیں ہوئی۔

جمعرات کی رات اسرائیلی "واللا" ویب سائٹ نے کہا کہ اسرائیل نے مصر کو رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کی تجویز پیش کی تھی، جس میں غزہ کے فلسطینی نمائندوں اور اقوام متحدہ کےمندوبین کی شرکت کی تجویز دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں