عارضی پشتے کے ذریعے غزہ تک اولین امداد پہنچا دی گئی: امریکی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی فوج نے کہا کہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل جمعہ کو غزہ میں ایک عارضی پشتے کے ذریعے شروع ہوئی جس کا مقصد جنگ سے تباہ حال فلسطینی علاقے میں ہنگامی انسانی امداد بڑھانا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں کہا، "آج تقریباً صبح 9 بجے (غزہ کے وقت) انسانی امداد لے جانے والے ٹرک غزہ میں ایک عارضی پشتے کے ذریعے ساحل کی طرف بڑھنا شروع ہوئے۔" بیان میں مزید کہا گیا کہ کوئی امریکی فوجی ساحل پر نہیں گیا۔

نیز کہا گیا، "غزہ میں فلسطینی شہریوں کو سمندری راہداری کے ذریعے اضافی امداد پہنچانے کے لیے یہ ایک جاری، کثیر القومی کوشش ہے جو مکمل طور پر انسانی بنیادوں پر ہے۔"

جمعرات کو اس پشتے کو کامیابی سے لنگر انداز کیا گیا جس میں آئندہ دنوں میں تقریباً 500 ٹن امداد فلسطینی علاقے میں داخل ہونے کی امید ہے۔

جمعرات کو سینٹ کام کی جاری کردہ تصاویر میں دکھایا گیا کہ قریبی اسرائیلی بندرگاہ اشدود میں انسانی امداد اٹھا کر ایک بجرے پر رکھی جا رہی تھی۔

اسرائیلی محاصرے نے 2.4 ملین لوگوں کے لیے خوراک کے ساتھ ساتھ صاف پانی، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت پیدا کر دی ہے جس کے بعد فلسطینی علاقے کو قحط کا سامنا ہے۔

گذشتہ ہفتے غزہ کی جانب واقع رفح گذرگاہ پر اسرائیلی افواج کے قبضے کے بعد سے کبھی کبھی آنے والے امدادی قافلوں کی آمد میں کمی آئی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ زمینی گذرگاہیں کھولنا اور مزید ٹرکوں کے قافلوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینا ہی پھیلتے ہوئے انسانی بحران کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں