اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے لیے امداد کا ٹرک جلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی طرف سے ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر کے بعد ان میں بسائے گئے آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اپنی پر تشدد کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ تازہ کارروائی کا نشانہ غزہ کے جنگ اور قحط زدہ فلسطینیوں کے لیے خوراک اور امدادی سامان لانے والا ٹرک اور اس کا ڈرائیور بنا۔

خوراک اور امدادی سامان لانے والے ٹرک کو یہودی آباد کاروں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب نشانہ بنایا اور ٹرک کو جلا دیا گیا۔ اس دوران ٹرک کا ڈرائیور بھی زخمی ہو گیا۔

یہودی آباد کار جنہیں اسرائیلی پولیس اور فوج نے اپنے زیر سایہ فلسطینیوں پر حملوں کی تربیت دی ہے اور اس کے لیے سالہا سال میں انہیں تیار کیا ہے۔ ان یہودی آباد کاروں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جب فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے جانے والے ٹرک کو روک کر آگ لگادی ۔

یہودی آباد کار اطیمنان سے ٹرک کو آگ لگا چکے تو اسرائیلی فوجیوں کی ایک ٹکڑی انہیں 'روکنے 'کے لیے کافی دیر بعد پہنچی تو یہودی آباد کار ٹرک ڈرائیور کو زدو کوب کر رہے تھے۔

اسرائیلی ریڈیو 'کان' کے مطابق اسرائیلی فوجی اس ڈرائیور کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھے تو یہودی آباد کاروں کے تشدد کی زد میں آنے سے چار اسرائیلی فوجی بھی زخمی ہو گئے۔

تاہم ان فوجیوں پر یہودی آباد کاروں کے حملے کے باوجود اسرائیلی فوجیوں کو ان سے کوئی خوف محسوس ہوا اور نہ ہی اس طرح بد امنی اور دنگا کرنے پر ان آباد کاروں پر فوجیوں نے ہاتھ اٹھایا اور نہ گولی چلائی۔

کان پبلک ریڈیو کے مطابق فوجیوں نے بتایا ہے کہ ٹرک میں کوئی خوراک یا امدادی سامان سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ جبکہ یہودی آباد کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرک پر سامان موجود تھا جو فلسطینیوں کے لیے لے جانے دینا انہیں قبول نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں