اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی مغربی کنارے پر بمباری، ایک فلسطینی قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کی وزارتِ صحت اور اسرائیلی فوج نے بتایا کہ جمعہ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک فلسطینی مزاحمت کار قتل اور آٹھ دیگر زخمی ہو گئے۔

فلسطینی اسلامی جہاد (پی آئی جے) گروپ کے مسلح ونگ نے مقتول کا نام شخص کا نام اسلام خمیسہ بتایا ہے جو گروپ کا رکن تھا۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے بتایا کہ آٹھ زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور وہ ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ رائیٹرز فوری طور پر ان کی شناخت کی تصدیق نہیں کر سکا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایک لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر نے حملہ انجام دیا جو مغربی کنارے میں ایک نایاب واقعہ ہے جہاں غزہ جنگ سے بہت پہلے تشدد میں اضافہ ہو گیا تھا۔

اسرائیل نے کہا کہ اس نے ایک احاطے پر حملہ کیا جو مزاحمت کاروں کے آپریشن سینٹر کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور خمیسہ کی ہلاکت کی تصدیق کی جو اس کے مطابق اسرائیلیوں کے خلاف کئی حملوں کا ذمہ دار تھا۔

اس نے تفصیلات ظاہر کیے بغیر مزید کہا کہ یہ حملہ "ایک قریبی اور ممکنہ خطرے کو دور کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔"

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر جن کی رائٹرز فوری طور پر تصدیق نہیں کرسکا، میں پناہ گزین کیمپ پر دھوئیں کا بادل نظر آ رہا تھا جو گذشتہ برسوں سے ایک گنجان آباد شہری علاقہ بن چکا ہے۔ کیمپ کے مکینوں نے بتایا کہ ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے اونروا کے مطابق کیمپ کے تقریباً 23,600 رہائشی پناہ گزینوں کے طور پر رجسٹر تھے - یہ وہ لوگ ہیں جو 1948 میں اسرائیل کی تخلیق کی وجہ بننے والی جنگ کے دوران گھروں سے نکال دیئے گئے یا بھاگ گئے تھے یا ان کی اولاد۔

مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جن پر اسرائیل نے 1967 کی شرقِ اوسط جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ یہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا مرکز ہو۔ پی آئی جے جیسے کچھ فلسطینی گروپ اسرائیل کے کئی عشروں سے جاری فوجی قبضے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں