مآرب میں امریکی ایم کیو-9 ڈرون مار گرایا: یمنی حوثی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے حوثی باغیوں نے جمعہ کے روز ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جب چند گھنٹے قبل ایک فوٹیج آن لائن گردش کرنے لگی۔ اس فوٹیج میں نظر آنے والے ایک ڈرون کا ملبہ بظاہر ایم کیو-9 ریپر کا ہے۔

امریکی فوج نے فوری طور پر واقعے کا اعتراف نہیں کیا۔

اس بات کی تصدیق ہو جانے کی صورت میں یہ حوثیوں کے ہاتھوں گرایا گیا ایک اور ریپر ہو گا جبکہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کی جنگ پر اپنی مہم میں مزید شدت پیدا کر رہے ہیں۔

حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے جمعرات کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے ریپر ڈرون مار گرایا جس کی بعد میں فوٹیج جاری کرنے کا انہوں نے وعدہ کیا۔

انہوں نے بیان کیا کہ ڈرون یمن کے مأرب صوبے میں "مخالفانہ کارروائیاں انجام دے رہا تھا"۔ یہ صوبہ یمن کی جلاوطن اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے اتحادیوں کے پاس ہے۔

آن لائن ویڈیو میں ملبے کی ریپر کے ٹکڑوں سے مشابہت کے ساتھ ساتھ ملبے میں آگ لگنے کی فوٹیج بھی دکھائی گئی۔

حوثیوں کے دعوے پر امریکی فوج نے ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

اگرچہ حملوں کے بارے میں حوثیوں کے دعوے بعد میں درست ثابت نہیں ہوئے لیکن ان کے پاس امریکی ڈرون مار گرانے کی تاریخ ہے اور ان کے اہم مددگار ایران نے انہیں ایسے ہتھیاروں سے مزین کیا ہے جو بلندی پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سنہ 2014 میں جب سے حوثی باغیوں نے ملک کے شمال اور اس کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا، اس واقعے سے قبل امریکی فوج اس گروپ کے ہاتھوں کم از کم پانچ ڈرون کھو چکی ہے۔

تقریباً 30 ملین ڈالر کی قیمت کے حامل رپیر ڈرونز 50,000 فٹ کی بلندی پر پرواز اور اترنے کی ضرورت سے پہلے 24 گھنٹے تک کی پرواز برداشت کر سکتے ہیں۔

ڈرون حملہ ایسے وقت ہوا جب حوثی باغی اسرائیل سے غزہ میں جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہویے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔

امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کے مطابق حوثیوں نے نومبر سے اب تک تجارتی بحری جہازوں پر 50 سے زیادہ حملے کیے ہیں، ایک جہاز پر قبضہ کیا اور دوسرے کو غرقاب کر دیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کے حملوں میں کمی آئی ہے کیونکہ یمن میں امریکی قیادت میں فضائی حملوں کی مہم میں گروپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم خطرے کی وجہ سے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے ذریعے تجارتی جہاز رانی اب بھی کم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں