اعتراف جرم کے لیے اسرائیل نے ہمارے ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا:اونروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین ’اونروا‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں سنگین انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے غیر سرکاری تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی صلاحیت کو مفلوج کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

’اونروا‘ نے الزام عاید کیا کہ اسرائیل نے اس کے ملازمین کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے اعتراف جرم کی کوشش کی ہے۔

ریلیف ایجنسی نے وضاحت کی کہ اسرائیل یہ کام موجودہ امدادی کارکنوں کو توڑ پھوڑ، دھمکانے اور تشدد کر کے کر رہا ہے، جبکہ ایسے لوگوں کو ویزے پر پابندی یا انکار کر رہا ہے جو آکر مدد کرنا چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے امدادے ادارے نے مزید کہا کہ اس کا پہلا غیر ملکی امدادی کارکن اس ہفتے ادارے کی کار پر اسرائیلی ٹینک کے حملے میں مارا گیا۔

ہراسانی کے کیسز

یو این آر ڈبلیو اے کی ترجمان جولیٹ ٹوما نے ڈیلی بیسٹ کو بتایا کہ "عملے کو ہراساں کیا گیا ہے اور وہ اپنے اہل خانہ کے لیے خوفزدہ ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ اور مغربی کنارے میں ہمارے ملازمین کو اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے چیک پوائنٹس پر گرفتار کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور اقوام متحدہ کی کاریں چلانے والے اور اقوام متحدہ کی جیکٹس پہننے والے ملازمین کو بھی نشانہ بنایا گیا"۔

اسرائیل کی جانب سے ’اونروا‘ کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی کو اس سال کے شروع میں مصر سے غزہ میں داخل ہونے سے روکنے کے بعد ویزا کے مسائل بڑھنے لگے۔

قابل ذکر ہے کہ UNRWA کے ساتھ اسرائیل کے خراب تعلقات کئی دہائیوں پرانے ہیں، لیکن یہ اس وقت مزید خراب ہوگئےٹوٹ پھوٹ کے مقام پر پہنچ گیا جب اس نے ’اونروا‘ کے 12 ملازمین پر 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں حصہ لینے کا الزام لگایا۔

لیکن اس نے اپنے الزامات کی حمایت کرنے کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

شدید خلاف ورزیاں

اقوام متحدہ نے گذشتہ ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ غزہ میں گرفتار فلسطینیوں کو اس کے عملے سمیت اسرائیل میں حراست میں رکھنے کے دوران شدید بدسلوکی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یہ کہ 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے بارے میں کچھ "اعترافات" تشدد کرکے جبرا حاصل کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں