ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے قافلے میں شامل ہیلی کاپٹر ’حادثے‘ کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کو ایک حادثے کے نتیجے میں عجلت میں ’’بے ترتیب اور بے ہنگم لینڈنگ‘‘ کرنا پڑی جس کے بعد سے صدر اور وزیر خارجہ سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ امیر عبداللہیان کو لے کر آنا والا ہیلی کاپٹر آذربائیجان کے ساتھ سرحد سے واپسی کے دوران پہاڑی علاقے سے گزرتے ہوئے گہرے دھند کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد صدر ابراہیم رئینی اور وزیر خارجہ امیر عبداللہیاں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ ہم تاحال پرامید ہیں لیکن جائے وقوع سے آنے والی خبریں انتہائی تشویش ناک ہیں۔ ایرانی خبر ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے امدادی کاموں میں دشواری کا سامنا ہے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے پر تشویش اور ایرانی قوم سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اللہ کے فضل سے صدر اور ان رفقا کو بحفاظت واپس پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کو پریشان نہیں ہونا چاہیے، ریاستی امور میں کوئی تعطل نہیں آئے گا۔

ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سے صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ ایران کی خبر رساں ادارے فارس نے عوام سے صدر کے لیے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔ ہیلی کاپٹر میں ایرانی صدر، وزیر خارجہ، مشرقی آذربائیجان صوبے کے گورنر، عالم دین حجتہ اللہ الہاشم سمیت دیگر مقامی حکام بھی سوار تھے۔

ابراہیم رئیسی ایران کی مشرقی سرحد سے متصل آذربائیجان کے صوبے میں سفر کر رہے تھے۔ یہ علاقہ ایرانی دارالحکومت تہران سے لگ بھگ 600 کلومٹر فاصلے پر واقع ہے۔ اتوار کی صبح صدر ابراہیم رئیسی نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ساتھ ایک ڈیم کا افتتاح کیا تھا۔ یہ ان دونوں ممالک کی جانب مشترکہ طور پر دریائے اراس پر تعمیر کردہ تیسرا ڈیم ہے۔

وزیر داخلہ احمد وحیدی نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں بتایا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کی جگہ پر شدید فوگ اور موسم کی خرابی کے باعث ریسکیو آپریشن میں دشواری کا سامنا ہے۔ انھوں نے حادثے کی نوعیت اور ہیلی کاپٹر میں سوار افراد کی خیریت سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ابھی تفصیلات جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایران کے پاس کئی قسم کے ہیلی کاپٹرز ہیں لیکن بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اس کے لیے ان کے پرزوں کا حصول مشکل ہے۔ ایران کے زیر استعمال بیش تر فوجی ہیلی کاپٹرز بھی 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے کے ہیں۔

ایران کے 63 سالہ سخت گیر نظریات کے حامل صدر ابراہیم رئیسی اس عہدے سے قبل عدلیہ کے سربراہ تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حمایت یافتہ ہیں اور ممکنہ طور پر ان کے جانشین بھی ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم کا اظہار تشویش

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ ایران صدر کے ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے افسوس ناک خبر سنی، اچھی خبر کا بڑی بے چینی سے انتظار ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں صدر ابراہیم رئیسی اور پوری ایرانی قوم کے ساتھ ہیں۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اسلام آباد میں ایران کے سفیر کو ٹیلی فون کر کے ہیلی کاپٹر حادثے میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور ان کی کی جلد از جلد بحفاظت واپسی کی دعا کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ اہل پنجاب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقا کی سلامتی کےلیے دعاگو ہیں، مشکل اور پریشانی کی گھڑی میں ایران کے عوام کے ساتھ ہیں اور دعا گو ہیں کہ ایرانی صدر اور ان کے رفقا خیر وعافیت سے ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں