ایران نے پاپ گلوکار تتلو کو قید کی سزا سنا دی: میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سرکاری میڈیا نے اتوار کو اطلاع دی کہ ایران کی ایک عدالت نے مشہور پاپ گلوکار امیر حسین مقصودلو المعروف تتلو کو "فحش مواد" پھیلانے کے جرم میں قید کی سزا سنائی ہے۔

36 سالہ مشہور موسیقار 2018 سے استنبول میں مقیم تھے۔ جس کے بعد ترک پولیس نے انہیں گذشتہ سال دسمبر میں ایران کے حوالے کر دیا تھا۔

تب سے وہ ایران میں نظر بند ہیں۔

ان کے وکیل الہام رحیمیفر نے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ تتلو کو قید کی متعدد "مختصر اور طویل مدتی" سزائیں سنائی گئیں۔

رحیمیفر نے سرکاری اخبار جامِ جام کو بتایا کہ سزاؤں کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

ایرانی قانون کے تحت جیل کی ایک سے زیادہ سزائیں ایک ساتھ چلتی ہیں۔

ریپ، پاپ اور آر ایند بی قسم کی موسیقی کے امتزاج کے لیے معروف پاپ گلوکار نے اپنی قسمت میں حالیہ برسوں میں ڈرامائی تبدیلی کا تجربہ کیا ہے۔

قبل ازیں ملک کے قدامت پسند سیاست دانوں نے نوجوان، آزاد خیال ایرانیوں تک پہنچنے کے لیے بڑی تعداد میں ٹیٹو والے گلوکار کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

حتیٰ کہ انہوں نے انتہائی قدامت پسند صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ایک عجیب ٹیلیویژن ملاقات بھی کی جب مؤخر الذکر 2017 میں اپنے عہدے کے لیے پہلی بار کوشاں تھے۔

2015 میں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کی حمایت میں ایک گانا نشر کیا کیونکہ تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک تاریخی جوہری معاہدہ طے پا رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں