حزب اللہ کے خلاف جنگ ناگزیر ہے:اسرائیلی وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جنگ ناگزیر ہے اور اس جنگ سے کوئی مفرنہیں۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی وسیع جنگ جاری ہے جب کہ گذشتہ برس آٹھ اکتوبر سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر تقریبا روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوتا ہے۔

سموٹرچ نے اتوار کو اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ "میری رائے میں ہم حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے راستے پر ہیں"۔

"سکیورٹی زون بنائیں"

بزلئیل سموٹرچ نے مزید کہا کہ اگر حزب اللہ نے الٹی میٹم کا جواب نہیں دیا تو اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان پر کنٹرول کرنا پڑے گا۔ شمالی اسرائیل سے ایک پریس کانفرنس میں کہا انہوں نے کہا کہ "شمال کے باشندوں کو ایک مختلف سکیورٹی حقیقت کی طرف لوٹنے کے لیے اور امن سے لطف اندوز ہونے کے لیے حزب اللہ کو شکست دینا پڑے گی۔

اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کے مطابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایک سکیورٹی زون بنایا جانا چاہیے جس میں اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں رہے اور حزب اللہ کو شمال کے باشندوں کے حوالے سے حتمی وارننگ جاری کی جانی چاہیے۔

لبنان اسرائیل سرحد سے
لبنان اسرائیل سرحد سے

آٹھ اکتوبر 2023 سے حزب اللہ اور اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر سرحد پار سے بمباری کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق سرحد کے دونوں اطراف میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں لبنان میں کم از کم 419 افراد ہلاک ہوئے، جن میں حزب اللہ کے کم از کم 267 ارکان اور 80 سے زیادہ شہری شامل ہیں۔

جب کہ حزب اللہ کے حملوں میں اسرائیلی فوج کے 14 سپاہی اور 11 شہری مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں