غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کرانے کا اردن نے بھی مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفادی نے بھی غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا مطالبہ اتوار کے روز اقوام متحدہ کے فلسطینیوں کی انسانی بنیاد پر مدد کے لیے قائم کیے گئے ادارے ' اونروا کے سربراہ کےہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے۔

خیال رہے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف کی کارروائی پہلے سے چل رہی ہے۔ عدالت انصاف کی یہ کارروائی جنوبی افریقہ کی دائر کردہ درخواست کی بنیاد پر جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے کئی ادارے اور انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں بھی غزہ میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی طرف توجہ مبذول کر چکی ہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بھی غزہ مین تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اب اسرائیلی فوج نے دو ہفتوں کے دوران رفح سے آٹھ لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کو ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔

اسی پس منظر میں اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفادی نے کہا ہے کہ اردن کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر غزہ میں جاری اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کی جائیں۔ ان تحقیات کے نتیجے میں جو بھی جرم مین ملوث قرار پائے اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

یاد رہے دو ماہ قبل بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نے اسرائیلی جرائم کے خلاف تحقیقات شروع کیں تو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور کئی دیگر اعلی حکام کی گرفتاری کے خطرے کی باتیں بھی اسرائیلی میڈیا میں آنے لگیں ۔ مگر اس کے بعد ان خبروں میں کمی آگئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں