لیبیا کے قانون ساز کو اغوا کر لیا گیا: اقوامِ متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے ہفتے کی رات ایک بیان میں کہا کہ بنغازی شہر کی نمائندگی کرنے والے لیبیا کے مشرقی علاقے میں قائم ایوانِ نمائندگان کے ایک منتخب رکن کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے سپورٹ مشن نے "ابراہیم الدرسی کے اغوا پر گہری تشویش" کا اظہار کیا۔

لیبیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک مغرب میں طرابلس میں قائم اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت اور دوسرا مشرق میں فوجی طاقتور خلیفہ حفتر کی قیادت میں حریف انتظامیہ۔

مشرقی پارلیمان نے یہ بتائے بغیر کہ وہ کب لاپتہ ہوئے تھے، ہفتے کی رات ایک بیان میں کہا کہ وہ "انتہائی تشویش کے ساتھ بنغازی شہر کے نمائندہ ابراہیم الدرسی کی گمشدگی کے معاملے کی پیروی کر رہی تھی۔"

پارلیمان نے زور دیا کہ "سکیورٹی سروسز یہ جاننے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے اور ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائیں"۔

تاحال اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں ہیں کہ درسی کو کہاں اور کب اغوا کیا گیا۔

لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے سپورٹ مشن نے "مجاز حکام سے ان کا پتہ لگانے اور ان کی فوری رہائی کو محفوظ بنانے کا" مطالبہ کیا اور "ان کی گمشدگی سے متعلقہ حالات کی مکمل تحقیقات اور قانون کے تحت ذمہ داروں سے جواب طلبی کرنے" پر زور دیا۔

2011 میں طویل عرصے بعد آمر حکمران معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد برسوں کی جنگ اور افراتفری سے نکلنے کے لیے لیبیا اب بھی جدوجہد کر رہا ہے۔

2019 میں ایک اور نمائندہ سہام سرقیوہ کو اغوا کر لیا گیا تھا اور وہ بدستور لاپتہ ہیں۔

بنغازی ہی کی نمائندگی کرنے والی سرقیوہ کو ایک ٹیلی ویژن پروگرام نشر ہونے کے فورا بعد ہی ان کے گھر سے اغوا کر لیا گیا تھا جس میں انہوں نے اس سال طرابلس پر حفتر کے حملے پر تنقید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں