نوجوان مسجد کے سامنے قتل، حزب اللہ رہنما حسن نصر اللہ کا پگڑی والے قاتل سے کیا تعلق ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی لبنان کے ڈسٹرکٹ صور کے قصبے بیاض کی مسجد کے سامنے پگڑی والے عالم دیر عامص قصبے کے شکیب بزون السید اور عبد الرضا فقیہ نام کے شہری کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ اس دوران مولوی شکیب بزون نے عبد الرضا کو قتل کردیا۔

حسن نصر اللہ سے تعلق رکھنے والے شیخ شکیب بزون
حسن نصر اللہ سے تعلق رکھنے والے شیخ شکیب بزون
Advertisement

نجی ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" کو اطلاع دی ہے کہ شکیب بزون پہلے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کی بیوی کی بہن کے شوہر تھے۔ شادی کے کچھ عرصہ کے بعد ہی ان کی اپنی بیوی سے علیحدگی ہوگئی تھی۔

شکیب بزون اور شہری کے درمیان کار کی پارکنگ پر جھگڑا ہوا جہاں شکیب بزون نے شہری عبد الرضا فقیہ پر گولی چلا دی کیونکہ اس نے اپنی گاڑی مسجد کے سامنے کھڑی کر رکھی تھی۔ عبد الرضا ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ گیا۔ مولوی شکیب بزون نامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگیا۔

بعد ازاں جنوب میں داخلی سکیورٹی فورسز کے انفارمیشن ڈویژن نے عالم دین کو گرفتار کر لیا اور اس سے تفتیش شروع کردی گئی۔ نجی ذرائع نے بتایا کہ شکیب نے شہری فقیہ کو کلاشنکوف سے گولی ماری نہ کہ فوجی پستول سے۔ ذرائع نے بتایا کہ معمولی کارپارکنگ جھگڑے کو قتل کی وجہ قرار دینا بھی محل نظر ہے۔ اس قتل کی دیگر کوئی خاص وجہ بھی ہوسکتی ہے۔

نجی ذرائع کے مطابق شیخ شکیب بازون السید تیز مزاج اور غصے میں جلدی کرنے کے لیے معروف ہیں۔ اور بہت سے مذہبی مواقع سے ان کے خارج ہونے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی رہی ہے۔

نجی ذرائع نے بتایا شکیب بزون السید حزب اللہ کے حامی ہیں اور ان شیخوں میں سے ایک تھے جنہوں نے گزشتہ ادوار میں حزب اللہ کی درخواست پر شام کا دورہ کیا تھا تاکہ وہاں جماعت کے جنگجوؤں کو مذہبی درس دیا جا سکے۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس خبر پر اس ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرم ایک مولوی ہے۔ حالانکہ اس کو رواداری اور رحم کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ ایک مسجد کا امام ہونے کے بعد بھی انہوں نے ہتھیار کیسے اٹھا لیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں