نیتن یاہو حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی، بینی گانٹزکابعد ازحماس قابل قبول منصوبے پراصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی جنگی کابینہ کے رکن بینی گانٹز نے ہفتے کے روز نیتن یاہو کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آٹھ جون تک ایک ایسے منصوبے پر اتفاق کرے جس کا مقصد بعد از جنگ غزہ کا منظر واضح کرنا ہو تاکہ حماس کے بعد ابھی سے معلوم ہو سکے کہ غزہ میں کس کا کیا کردار ہوگا،

بینی گانٹز نے اس امر کا مطالبہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے اگر ان کی توقعات اس سلسلے میں پوری نہ ہوئیں تو ہ جنگی کابینہ سے خود کو الگ کر لیں گے۔ بینی گانٹز اسرائیل کی ایک قدرے اعتدال پسند سمجھی جانے والی جماعت کے سربراہ اور حکومت کے سیاسی حریف ہیں تاہم انہوں نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی سات اکتوبر کے بعد جنگی کابینہ میں شرکت قبول کر لی تھی۔

بینی گانٹز ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ہیں، جن کے بارے میں تازہ ترین سرویز بتاتے ہیں کہ وہ عوام میں نیتین یاہو کے مقابلے میں زیادہ عوامی مقبولیت رکھنے والے لیڈر ہیں۔ انہوں نے جنگی کابینہ سے نکل جانے کی دھنکی کے ساتھ کوئی خاص تاریخ تو واضح نہیں کی البتہ اس سے نیتن یاہو کی حکومت کے لیے اپنے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کے ساتھ معاملات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انتہائی دائیں بازوں کی جماعتیں جو اس وقت نیتن یاہو کی حکومت میں اہم ترین اتحادی ہیں اور جن کے ووٹوں کی وجہ سے حکومت کو پارلیمنت میں عددی برتری حاصل ہے ان کا حماس کے بعد کے منصوبے کے بارے میں خیالات بینی گانٹز کو قبول نہیں ہیں۔ نیتن یاہو کی اتحادی جماعتیں چاہتی ہیں کہ جنگ کے بعد اسرائیل غزہ کو اپنے اس طرح قبضے میں رکھے کہ یہ اسرائیل کا ہی حصہ بن کر رہے۔ جبکہ بینی گانٹز کے علاوہ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ بھی جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ پر فوجی قبضے کو ترک کرنے کا کہہ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نیتن یاہو اگر اپنی جنگی کابینہ میں شامل بینی گانٹز کو قائل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو صاف مطلب ہے کہ انہیں خود سے زیادہ مقبول اپوزیشن لیڈر کی مخالفت کا سامنا ہو گا اور یہ ایسے وقت میں جبکہ نیتن یاہو کے خلاف عدالت میں کرپشن کے مقدمات بھی ان کے منتظر ہیں۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اپنے مخلوط حکومت میں انتہائی اہمیت کی حامل انتہا پسند جماعتوں کو ناراض کر کے اپنی حکومت کو گرنے کا موقع دے دیں۔ گویا دونوں طرح سے خطرات موجود ہیں۔

بینی گانٹز نے ہفتے کے روز کی پریس کانفرنس میں کہا ہے ' وہ دیکھ رہے ہیں کہ حکومتی سطح پر ذاتی اور سیاسی مفادات کی قومی سلامتی کے امور میں ملاوٹ کی جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی اقلیت نے اسرائیلی جہاز پر قبضہ کر کے اسے چٹان سے ٹکرا دینے کی صورت حال پیدا کر رکھی ہے، یہ بہت خطرناک بات ہے۔

پریس کانفرنس میں اپنے مجوزہ چھ نکات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ غزہ کے لیے ایسا انتظام چاہتے ہیں جس میں امریکی، یورپی ، عرب اور فلسطینی سب شامل ہوں اور متفق ہوں تاکہ اسرائیلی سیکیورٹی کے نیچے سب کام ہوتا رہے۔ نیز تمام اسرائیلیوں کے لیے برابری کی بنیاد پر قومی خدمات کا موقع ہو۔ اس سے مراد انتہائی مذہبی یہودیوں کے لیے بھی فوجی خدمات کو لازمی قرار دینا اور ان کے لیے جاری استثنا کا خاتمہ ہے۔ جبکہ نیتن یاہو کی انتہا پسند اتحادی جماعتیں یہ استثنا برقرار رکھنے حمایت کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں