ہمیں غزہ پر مکمل قبضہ کرنا چاہیے: بین گویر دوبارہ برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی منی گورنمنٹ میں شامل وزیربینی گینٹز پر تنقید کے بعد اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتماربین گویر نے نئے انتہا پسندانہ بیانات جاری کیے۔

انہوں نےکہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے بعد کے دن کے منصوبے میں جس کا ذکر گہنٹز نے کیا وہاں مکمل طور پراسرائیل کا کنٹرول ہونا چاہیے۔

اخبار’معاریو‘ کی رپورٹ کے مطابق بین گویر نے اتوار کو بیانات میں کہا کہ "غزہ میں ما بعد جنگ کا منصوبہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پوراغزہ ہمارا ہو اور ہمارے کنٹرول میں ہو۔

انہوں نےمزید کہا کہ "اسرائیلی جنگی کونسل ملک کو شمال اور جنوب میں نقصان اور الجھن میں گھسیٹ رہی ہے۔ جبالیہ اور غزہ کے شمال میں واقع دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ اس کے جنوب خاص طور پر رفح میں بھی ہمیں جنگ کا سامنا ہے‘‘۔

جھوٹا اور مکار

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب انتہا پسند وزیر نے بینی گینٹز کو اسٹنٹ مین اور جھوٹا شخص قرار دیا۔

انہوں نے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر لکھا کہ گینٹز کے واشنگٹن کے سفر کے بعد امریکی انتظامیہ تل ابیب سے دشمنی اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے بینی گینٹز پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کے خلاف سازش کررہے ہیں۔

قبل ازیں اسرائیل کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے ہفتے کی شام گینٹز کی حکومت سے دستبرداری کی دھمکی کے جواب میں غزہ پر مکمل اسرائیلی کنٹرول کا مطالبہ کیا تھا۔

گذشتہ روز بینی گینٹز نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو 8 جون تک کا وقت دیا تاکہ وہ غزہ میں جنگ کے لیے ایک واضح حکمت عملی کا تعین کر یں اور جنگ کے بعد کے غزہ کے پلان کے بارے میں آگاہ کریں۔

ادھر نیتن یاہو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ منی حکومت کے رکن کو ہمیں ڈیڈ لائن دینے کے بجائے حماس کو ڈیڈ لائن دینی چاہئیے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گینٹز کے بیانات نے پہلی بار سرکاری اور عوامی سطح پر اسرائیلی اتحاد پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کیا ہے۔ اس وقت حکومت پر انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا غلبہ ہے جن میں وزیر دفاع یو آو گیلنٹ جیسے سخت گیرلوگ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں