حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر’ہل ہارنیٹ‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے طیارے کے حادثے کی جگہ کے لیے جاری تلاش کی روشنی میں اس لاپتہ ہیلی کاپٹر کی صلاحیتوں پر بھی بات کی جا رہی ہے۔ حادثے کا شکارہونے والے ہیلی کاپٹر کو "جہنم کا ہارنیٹ" کہا جاتا ہے۔

"بیل 412"

اس ہیلی کاپٹر کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ایک امریکی کمپنی نے تیار کیا ہے اور یہ ’’بیل 412‘‘ ماڈل ہے اور ایران میں ہلال احمر کے فضائی بیڑے میں استعمال ہوتا ہے۔

بیل 412 ہیلی کاپٹر ہیلی کاپٹروں کے ہیو خاندان سے ہے، اور اسے امریکی بیل ہیلی کاپٹر ٹیکسٹرون کمپنی نے تیار کیا ہے۔

ملٹری فیکٹری امریکی ویب سائٹ کے مطابق اس میں دو انجن اور چار پروپیلر بھی ہیں اور یہ "بیل 212 کا تیار کردہ ورژن" ہے۔

ہیلی کاپٹر کی صلاحیتیں

ویب سائٹ نےکہا کہ "یہ ہیلی کاپٹر ایک انجن کے ساتھ پرواز جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگر دوسرا فیل ہو جائےتب بھی پرواز میں خلل نہیں پڑتا۔ اسے کینیڈا، اٹلی اور جاپان استعمال کرتے ہیں"۔

جب سے بیل 412 1979 میں متعارف کرایا گیا تھا اس کےبعد کئی سو اس طرح کے ہیلی کاپٹر تیار کیے گئے ہیں اور کاک پٹ الیکٹرانکس کو کئی بار اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

اس کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ 15 افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ 259 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور زیادہ سے زیادہ 6096 میٹراونچائی پر پرواز کرتا ہے۔ اس کی پرواز کی حد 980 کلومیٹر ہے۔

یہ ہیلی کاپٹر سمندری آپریشنز، مسافروں اور وی آئی پیز کی نقل و حمل، سامان کی نقل و حمل، زلزلہ سے متعلق آپریشنز، تیل اور گیس کی تلاش، ہلاکتوں کی نقل و حمل اور پہاڑی آپریشنز کے علاوہ جنگلات میں فضائی نگرانی، آگ بجھانے اور دیگر کاموں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

حادثے کے اشارے

صدر کا ہیلی کاپٹر تین ہیلی کاپٹروں کے قافلے کا حصہ تھا جس میں صدر رئیسی اور دیگر اہلکار سوار تھے۔ تسنیم نیوز ایجنسی نے اطلاع دی کہ دیگر دو ہیلی کاپٹر "محفوظ طریقے سے اپنی منزل پر پہنچ گئے"۔

اصلاح پسند اخبار شرق کے مطابق صدر کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے جب کہ دیگر دو ہیلی کاپٹر تبریز میں بحفاظت اتر گئے۔

سرکاری ایرانی نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے اطلاع دی ہے کہ رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان ہیلی کاپٹر کے مسافروں میں شامل تھے۔

صدر کا انجام نامعلوم

ارنا نے مزید کہا کہ "20 سے زیادہ امدادی ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں جو مکمل آلات سے لیس ہیں۔ ان میں ڈرون اور ریسکیو کتے شامل تھے۔"

ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے کے کئی گھنٹے بعد بھی صدر کی حیثیت غیر یقینی ہے اور بین الاقوامی سطح پر پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں