اسرائیلی امن کارکنان غزہ تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے دائیں بازوکے حملوں کےمدِمقابل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اے ایف پی کے ایک نمائندے نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی امن کارکنوں کے ایک گروپ نے اتوار کو غزہ جانے والے انسانی امداد کے قافلے کے ساتھ سفر کیا تاکہ انتہائی دائیں بازو کے ارکان سے اس قافلے کی حفاظت کر سکیں۔

گذشتہ ہفتے اردن سے آنے والے کم از کم سات امدادی ٹرکوں کو دائیں بازو کے کارکنان نے روک دیا اور لوٹ مار کی جو اسرائیلی پولیس کی تحقیقات اور امریکہ کی طرف سے احتجاج کی وجہ بنا۔

اتوار کا امدادی قافلہ تقریباً 30 ٹرکوں پر مشتمل تھا اور ایک پر دائیں بازو کے لوگوں نے حملہ کیا۔

پولیس نے ایک اسرائیلی نوجوان کو اس وقت جائے وقوعہ سے ہٹا دیا جب اس نے امداد کا کچھ حصہ زمین پر پھینک دیا۔

32 سالہ کارکن صوف پتیشی نے کہا، "آباد کار امداد کا کچھ حصہ ٹرک سے اتار کر پھینکنے میں کامیاب رہے لیکن چونکہ ہم یہاں جلدی پہنچ گئے اور پولیس نے اپنا کام کیا اس لیے خوراک کا ضیاع یا نقصان بہت کم ہوا اور ہم امداد غزہ پہنچنے تک آگے بڑھ سکتے ہیں۔"

اسٹینڈنگ ٹوگیدر ایک نچلی سطح کا گروپ ہے جس کے تقریباً 30 کارکنان نے اتوار کو جنگ زدہ فلسطینی علاقے کے ساتھ والی سرحد کا سفر کیا۔

ایک اور 36 سالہ کارکن اوشرا بار نے کہا، "ان امدادی ٹرکوں میں سے ہر ٹرک ایک پانچ سالہ بچے کی جان بچانے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔"

اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے جس کی وجہ سے خوراک، پینے کے پانی، طبی سامان اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جو امدادی سامان کی ترسیل اور ہوائی راستے سے امداد کے ذریعے کبھی کبھار کم ہو جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں