اسرائیلی وزیر کی ہسپانوی وزیرِ اعظم کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کے روز ایک اسرائیلی وزیر نے میڈرڈ میں ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حماس کے اسرائیل پر کیے گئے حملے کا "انعام" ہوگا۔

اسرائیل کے وزیر برائے امورِ تارکینِ وطن امیچائی چکلی سپین کی ووکس پارٹی کے زیرِ اہتمام انتہائی دائیں بازو کے عالمی رہنماؤں کے میڈرڈ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

"بدقسمتی سے سپین کے موجودہ وزیرِ اعظم سانچیز کا خیال ہے کہ فلسطینیوں کو اس قتلِ عام کا انعام ملنا چاہیے -- کہ یہی وقت ہے کہ انہیں ایک ریاست دی جائے۔"

اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے یورپی ناقدین میں سپین سب سے زیادہ آواز اٹھاتا رہا ہے۔

سانچیز نے مارچ میں کہا تھا کہ سپین اور آئرلینڈ کے ساتھ ساتھ سلووینیا اور مالٹا نے اسرائیل کے شانہ بشانہ ایک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے اپنا پہلا قدم اٹھانے پر اتفاق کیا تھا کیونکہ وہ دو ریاستی حل کو پائیدار امن کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

سوشلسٹ وزیرِ اعظم بدھ کو اس تاریخ کا اعلان کرنے والے ہیں جب میڈرڈ یورپی یونین کے متعدد شراکت داروں کے ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔

چکلی نے کہا، "فلسطینی اتھارٹی کے بارے میں کچھ اہم حقائق کو نمایاں کرنا ضروری ہے۔"

نیز انہوں نے کہا، "فلسطینی اتھارٹی کے کسی بھی اعلیٰ عہدیدار نے حماس کے وحشیانہ قتلِ عام کی مذمت نہیں کی۔ ایک نے بھی نہیں۔"

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حماس کو تباہ کرنے کے عزم کے ساتھ اسرائیل کی جوابی کارروائی میں 35,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر سے شروع ہونے والی زمینی کارروائی کے بعد سے غزہ کی فوجی مہم میں 279 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں