اسرائیل کا فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف امریکہ کی دو فریقی حمایت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیل نے اتوار کے روز امریکہ سے فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف دو طرفہ حمایت کا مطالبہ کیا جس کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ حماس اور اس کے حمایتی ایران کے لیے انعام ہوگا۔

یورپی یونین کے ارکان بشمول آئرلینڈ، سپین، سلووینیا اور مالٹا نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل کو دیرپا امن کے لیے ضروری سمجھتے ہوئے وہ اس ماہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتے ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ اسرائیل کاٹز جنہوں نے قبل ازیں ایوانِ نمائندگان کے اعلیٰ ترین ریپبلکن ایلیس سٹیفنک سے ملاقات کی، نے کہا کہ اگر فلسطینی ریاست قائم ہوئی تو ایران اسے "اسرائیل کی تباہی کے لیے کام کرنے" کی غرض سے ایک فوجی مرکز کے طور پر استعمال کرے گا۔

انہوں نے سٹیفنک کو بتایا کہ امریکہ کو اگلے ماہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی کونسل میں ایک قرارداد کی قیادت کرنی چاہیے تاکہ ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی جائیں اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے اور حماس جیسے گروپوں کی حمایت کرنے سے روکا جا سکے۔

ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تردید کرتا ہے۔

سٹیفنک نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت میں امریکی کالج کیمپس میں شروع ہونے والے مظاہروں کو روکنے کی کوشش میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں