امریکہ صدر رئیسی اور وزیر خارجہ امیر عبداللہیان کے قتل کا ذمہ دار ہے: جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی کل اتوار کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں سات دیگر افراد کے ساتھ ہلاکت پر اپنے پہلے تبصرے میں سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ کو اس سانحے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

انہوں نے پیر کو ٹیلی ویژن بیانات میں کہا کہ واشنگٹن کو رئیسی کے قتل میں "بنیادی مجرموں میں سے ایک" سمجھا جاتا ہے۔

ہوا بازی کے اسپیئر پارٹس

انہوں نے مزید کہا کہ صدارتی ہیلی کاپٹر کے حادثے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے جس نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے باوجود ایران کو طیاروں اور ہوابازی کے اسپیئر پارٹس کی فروخت پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ مقدمہ یقینی طور پر ایرانی قوم کے خلاف امریکی جرائم کی بلیک لسٹ میں درج ہے"۔

جوادظریف نےمزید کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود ایرانی عوام ان خاص حالات میں حکومت اور انقلاب کے ساتھ کھڑے رہے جن سے ملک گزر رہا ہے۔

بیل ہیلی کاپٹر 412

حادثے کا شکار ہونے والا بیل 412 ہیلی کاپٹر امریکی ساختہ بیل 212 کا ایک اپ گریڈ ورژن ہے۔ کل دوپہر مشرقی آذربائیجان صوبے کے ایک ناہموار علاقے میں خراب موسمی حالات اور شدید دھند کےدوران اس ماڈل کا ہیلی کا کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان سمیت سات دیگر افراد مارے گئے تھے۔

ایرانی صدر کا بیل ہیلی کاپٹر
ایرانی صدر کا بیل ہیلی کاپٹر

اس قسم کے درمیانے درجے کے دو بلیڈ والے ہیلی کاپٹر کی تیاری امریکی ریاست ٹیکساس میں بیل ٹیکسٹرون نے شروع کی۔

بیل 212 نے پہلی بار 1968 میں اڑان بھری تھی۔ جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کمپنی نے بعد میں 1988 میں کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں اپنی طیارہ سازی کی فیکٹری منتقل کی۔

ہیلی کاپٹر میں پائلٹ سمیت 15 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش جبکہ اس کا اندرونی حصہ چھ کیوبک میٹر ہے اور یہ 2,268 کلوگرام تک کے پے لوڈ کو لے جا سکتا ہے۔

یہ دو انجنوں کے ساتھ بھی کام کرتا ہے اور اگر ان میں سے کسی کو کوئی نقصان پہنچے تو ایک انجن کا استعمال کرتے ہوئے پرواز جاری رکھ سکتا ہے۔

سنہ1979ء سے قبل

لیکن ایران نے یہ بیل 212 ہیلی کاپٹر 1979ء سے پہلے اور اس وقت "اسلامی انقلاب" کے شروع ہونے تک نہیں خریدے تھے۔

تاہم ملک پر لگاتار امریکی پابندیوں نے بہت سے طیاروں کی دیکھ بھال یا ہوابازی کی جدید کاری میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ یہ بات ایرانی عہدیدار ماضی میں بارہا کرچکے ہیں۔

ایرانی فضائیہ نے بعد میں ان ہیلی کاپٹروں کو ملک میں ہلال احمر کے حوالے کر دیا گیا۔ انہیں خستہ حالت اور پابندیوں کی وجہ سے برقرار رکھنا مشکل تھا۔

شاید یہی وہ چیز ہے جس نے ملک کے صدر کے ساتھ جہاز میں گر کر تباہ ہونے کے بعد بہت سے سوالات کو جنم دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں