وارننگز کے باوجود اسرائیل نے امریکہ کو بتا دیا کہ وہ رفح میں آپریشن کو وسعت دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایسا لگتا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان تل ابیب میں اسرائیلی رہنماؤں کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے اتوار کو اسرائیل کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے تل ابیب پر زور دیا تھا کی وہ رفح میں فوجی کارروائی کو وسعت دینے سے گریز کرے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے جیک سلیوان کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ رفح آپریشن پر بات چیت کی جائے جو کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلاف کا موضوع ہے۔ انہوں نے امریکی مشیر کو بتایا کہ "رفح زمینی آپریشن کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے"۔

پیر کو گیلنٹ کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، انہوں نے مزید کہا، "ہم حماس کے خاتمے اور غزہ کی پٹی میں زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کی بازیابی تک رفح میں زمینی کارروائی کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔"

یہ بیانات قطری وزارت خارجہ کے وزیر مملکت محمد الخلیفی کے اس بیان کے ساتھ سامنے آئے ہیں جن میں ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے زمین پر فوجی کارروائیوں کو روکنا ضروری ہے۔

اگلا مرحلہ

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب گیلنٹ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سلیوان کی ملاقات کے فوراً بعد "رفح تدریجی عمل" کے اگلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔

چھ مئی سے اسرائیلی افواج نےرفح شہر میں گھسنا شروع کر دیا۔ اسرائیل اسے حماس کے جنگجوؤں کا آخری گڑھ سمجھتا ہے اور وہ یہاں ہرصورت میں آپریشن کرنا چاہتا ہے۔

اسرائیلی فوجی کارروائی کے آغاز سے لاکھوں فلسطینیوں نے رفح چھوڑ دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ رفح حملے کے معاملے نے غزہ کی پٹی سے متصل مصر کی قیادت میں کئی مغربی اور عرب ممالک کے غصے کو جنم دیا تھا۔

واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان تناؤ بھی غیر معمولی انداز میں بڑھ گیا اور گذشتہ ہفتے امریکی صدر کو اسلحے کی اس کھیپ کو معطل کرنے پرمجبور کیا گیا جسے اسرائیل کو بھیجنے کی منظوری دی جا چکی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں