ایرانی پاسداران انقلاب: ہمیں صدر کے لاپتہ ہیلی کاپٹر کا سگنل ملا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کی تلاش جاری ہے۔ فارس نیوز ایجنسی نے اتوار کے روز اطلاع دی تھی کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی اور پاسداران انقلاب کے کئی اعلیٰ افسران صدر ابراہیم رئیسی کے طیارے کے حادثے کی جگہ پر گئے ہیں۔

"ہیلی کاپٹر سے سگنل"

دریں اثنا تسنیم نیوز ایجنسی نے آج اطلاع دی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر نے صدر ابراہیم رئیسی اور عملے کے ایک رکن کا موبائل فون لے جانے والے طیارے سے سگنل موصول ہونے کا اعلان کیا ہے۔

ایجنسی نے مشرقی آذربائیجان صوبے میں پاسداران انقلاب کی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اصغر عباس غولی زادہ کے حوالے سے بتایا، جہاں موسم کی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ "ہم اس وقت اپنی تمام فوجی دستوں کے ساتھ اس خطے کی طرف جا رہے ہیں"۔

"ہمیں اچھی خبر کی امید ہے"

انہوں نے مزید کہاکہ "ہم لوگوں کو اچھی خبر سنانے کی امید کرتے ہیں"۔

العالم ٹی وی نے ایرانی صدر کے ایگزیکٹیو اسسٹنٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوجی دستے، پاسداران انقلاب اور پولیس جائے حادثہ پر موجود تھے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہلال احمر سے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ تلاش اور امدادی ٹیمیں صدر کے طیارے کے مقام کے مخصوص کوآرڈینیٹس تک پہنچ گئی ہیں۔

صدر اور وزیر خارجہ کی جان کی جان خطرے میں

اس تناظر میں ایک نامعلوم ایرانی اہلکار نے بتایا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی زندگی ان کے ہیلی کاپٹر کی مشکل لینڈنگ کے بعد "خطرے میں" ہے۔

صدر کا ہیلی کاپٹر تین ہیلی کاپٹروں کے قافلے کا حصہ تھا جس میں وہ اور دیگر اہلکار سوار تھے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق دیگر دو ہیلی کاپٹر "محفوظ طریقے سے اپنی منزل پر پہنچ گئے مگرصدر کا ہیلی کاپٹر نہیں پہنچا۔"

اصلاح پسند اخبار ’شرق‘ نے کہا کہ "صدر کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جب کہ دیگر دو ہیلی کاپٹر تبریز میں بحفاظت اتر گئے۔

سرکاری ’ارنا‘ ایرانی نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان ہیلی کاپٹر کے مسافروں میں شامل تھے۔

صدر کا انجام نامعلوم

ارنا نے مزید کہا کہ "20 سے زیادہ امدادی ٹیمیں روانہ کی گئیں، جو مکمل آلات سے لیس ہیں جن میں ڈرون اور ریسکیو کتے شامل ہیں"۔

ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے کے کئی گھنٹے بعد بھی صدر کے بارے میں غیر یقینی ہے اور بین الاقوامی سطح پر پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ جو ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار نہیں رکھتا ہے اس حادثے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں