ترکیہ اور روس کی امدادی ٹیمیں ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کی تلاش جاری رہے۔ العالم ٹی وی نے بتایا ہے کہ طیارے کے حادثے کے علاقے میں وائر لیس اور ٹیلی فون مواصلات میں خلل پڑا ہے۔

"روس نے امدادی ٹیم بھیج دی"

دریں اثنا ماسکو نے آج پیر کے روز صبح کے وقت اعلان کیا کہ اس نے امدادی عملے کو ایران بھیج دیا ہے تاکہ ایک ہیلی کاپٹر کی تلاش میں مدد کریں جو صدر ابراہیم رئیسی کو لے کر جا رہا تھا اور ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔

روسی وزارت برائے ہنگامی صورتحال نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں لکھا "ایرانی فریق کی درخواست پر روسی وزارت برائے ہنگامی حالات کے پیرامیڈیکس امدادی کارروائیوں اور اس ہیلی کاپٹر کی تلاش میں مدد کریں گے‘‘۔

ماسکو نے وضاحت کی کہ ٹیم شمال مغربی ایران کے بڑے شہر "تبریز کی طرف جا رہی ہے۔اس میں 47 ماہرین شامل ہیں جو ضروری سازوسامان، آلات ٹیرین گاڑیوں اور ایک BO-105 ہیلی کاپٹر سے لیس ہیں"

تلاشی کی کارروائیوں میں ترکیہ کا ڈرون بھی حصہ لے رہا ہے

دوسری جانب ترکیہ کا ایک ڈرون ایک بڑے ہیلی کاپٹر حادثے کی جگہ کی تلاش میں حصہ لے رہا ہے۔

ترکیہ نے ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی تلاش میں مدد کے لیے فضائی ذرائع مختص کرنے کا اعلان کیا اور عرب ممالک نے بھی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی جب کہ اسرائیلی حکام نے واقعے سے تل ابیب نے ہرقسم کے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

ترکیہ کی وزارت دفاع نے مشرقی آذربائیجان صوبے کے ایک پہاڑی علاقے میں لاپتہ ہونے والے رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے "اکانجی" ڈرون اور نائٹ ویژن سے لیس ایک ہیلی کاپٹر مختص کرنے کا اعلان کیا۔

ترکییہ کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا کہ تہران نے انقرہ سے نائٹ ویژن ٹیکنالوجی سے لیس سرچ اینڈ ریسکیو ہیلی کاپٹر فرام کرنے کو کہا ہے۔ میکانزم سے لیس درجنوں اہلکاروں پر مشتمل خصوصی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھیجی گئی ہیں۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان ایک ہیلی کاپٹر میں سوار تھے جو گذشتہ روز آذربائیجان میں حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔

پاسداران انقلاب کا کمانڈر جائے حادثہ پہنچ گئے

ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی اور گارڈ کے کئی اعلیٰ افسران ملک کے شمال مغرب میں مشرقی آذربائیجان صوبے میں جائے حادثہ پر گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلامی صدر کے معاون اور متعدد وزراء اور عہدیداروں کی موجودگی میں حادثے کے مقام پر ہنگامی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں۔

"ہوائی جہاز سے سگنل"

تسنیم نیوز ایجنسی نے کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے طیارے سے سگنل موصول ہونے کا اعلان کیا جس میں صدر اور عملے کے ایک رکن کا موبائل فون تھا۔

ایجنسی نے مشرقی آذربائیجان صوبے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اصغر عباس غولی زادہ کے حوالے سے بتایا، جہاں موسم کی خرابی کے باعث طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ اس نے کہا کہ ’ہم اس وقت اپنے تمام فوجی دستوں کے ساتھ اس خطے کی طرف جا رہے ہیںم لوگوں کو اچھی خبر سنانے کی امید رکھتے ہیں‘۔

"صدر کے ایک ساتھی سے دو بار بات چیت"

بعد ازاں فارس ایجنسی نے ایرانی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہمارا صدر کے ایک ساتھی سے دو بار رابطہ ہوا اور اس نے ہمیں بتایا کہ ان کی حالت خراب ہے لیکن وہ ایمبولینسزکو سن سکتے ہیں۔‘‘

العالم ٹی وی نے ایرانی صدر کے ایگزیکٹیو اسسٹنٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوجی دستے، پاسداران انقلاب اور پولیس جائے حادثہ پر موجود ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہلال احمر سے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ تلاش اور امدادی ٹیمیں صدر کے طیارے کے مقام کے مخصوص کوآرڈینیٹس تک پہنچ گئی ہیں۔

ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی نے کہا کہ صدر کے طیارے کی "مشکل لینڈنگ" ہوئی۔ جگہ کی جغرافیائی نوعیت کی وجہ سے۔ صدر کی ٹیم سے رابطہ کرنے میں "مشکل" پیش آ رہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سخت موسم کی وجہ سے ہمیں طیارے تک پہنچنے میں کچھ وقت درکار ہو گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں