دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے نیتن یاہو کے وارنٹ طلب کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکوٹر نے کہا ہے کہ اب تک دستیاب شواہد کی بنیاد پر وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ جنگی جرائم میں ملوث ہیں اس لیے وہ ان کی باضابطہ گرفتاری کے لیے وارنٹ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات پیر کے روز کہی ہے۔

سات ماہ سے زائد عرصے سے غزہ میں اسرائیلی جنگ جاری ہے اور اس دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی بدترین تباہی کرتے ہوئے کوئی گھر چھوڑا ہے نہ ہسپتال، حتیٰ کہ قبروں تک کو اکھاڑ پھینکا اور بے گھر کیے ہوئے لاکھوں فلسطینیوں کو فوجی ناکہ بندی میں رکھتے ہوئے ان تک خوراک کی ترسیل میں بھی رکاوٹیں ڈالیں اور اقوم متحدہ کے مطابق ایک انسانی ساختہ قحط بھی غزہ پر مسلط کر دیا۔

غزہ میں جاری سات ماہ سے زائد کی جنگ کے دوران غزہ میں ہلاک ہونے والے 35 ہزار فلسطینیوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے مگر ایک تعداد ایسے فلسطینیوں کی بھی ہے جو بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے موت کا شکار بنائے گئے ہیں۔

اس ماحول میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے دی ہیگ میں گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کے اعلیٰ ترین حکومتی عہدے داروں کو جنگی جرائم کے تحت گرفتار کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے تاہم اس کے لیے انہیں فوجداری عدالت سے وارنٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسکیوٹر نے اسرائیلی جنگ کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے علاوہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے عہدے داروں یحیی السنوار اور محمد المسری [المعروف محمد ضیف] کو بھی گرفتار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق انہیں شک ہے یہ سب لوگ مبنیہ طور پر جنگی جرائم میں شریک ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ غزہ میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہوں یا اسرائیل کے اندر ہوئے ہوں۔

واضح رہے پراسکیوٹر کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ سمیت جنگی جرائم کے الزام میں مطلوب تمام افراد کی گرفتاری کے لیے فوجداری عدالت سے باقاعدہ درخواست کرنا ہو گی۔ جو دو ماہ تک اس پر غور کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان

اس کے بعد فیصلہ ہو گا کہ کسے گرفتار کیا جائے اور کس کو نہ کیا جائے۔ تاہم یہ امکان پکا ہے کہ اس دوران رفح میں بھی اسرائیلی فوج کو صفائے کا پورا موقع مل جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیل کی طرف سے فوری طور پر تو کئی رد عمل نہیں ایا ہے تاہم اسرائیلی حکومت اور عہدے دار پہلے سے یہ رائے ظاہر کرتے رہے ہیں کہ اسرائیل نے فوجداری عدالت کے دائرہ کار کو تسلیم کرنے سے بچنے کے لیے اس کی رکنیت ہی نہیں لی تھی۔ اس لیے اس پر فوجداری عدالت کا حکم کیسے چلے گا؟

اسرائیلی عہدے دار یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ غزہ میں جو بھی کر رہے ہیں اس میں کچھ غلط نہیں ہے بلکہ بین لاقوامی قانون کے مطابق ہے۔ اس لیے فوجداری عدالت کی مداخلت کیسی۔ مگر بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے باوجود اسرائیل وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے بیرونی دوروں میں مسائل آ سکتے ہیں۔

یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ابھی معاملات کے آگے بڑھنے میں فوجداری عدالت کی سطح پر بھی کافی وقت درکار ہو گا، نیز یہ کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ غیر معمولی قربت کے باعث اسرائیل کے لیے سفارتی مشکلات اگر کہیں آئیں تو انہیں جس طرح پہلے امریکہ اور یورپی ممالک نے سنبھالا ہوا ہے وہ آئندہ بھی اسے پورا سفارتی سہارا فرام کیے رکھیں گی۔

البتہ حماس کا نام اگر فوجداری عدالت کسی 'ضرورت شعری' کے لیے بھی لیتی ہے تو یہ ہو سکتا ہے کہ حماس کے لوگوں کے خلاف امریکہ و یورپ اور اسرائیل یا ان کے اتحادیوں کو مزید آسانی فراہم ہو جائے اور وہ ان کے خلاف پابندیوں کے علاوہ بھی اقدامات میں آسانی پا سکیں۔

اس بارے میں حماس نے بھی ابھی کوئی باضابطہ رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ بس غیر رسمی طور پر اس کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ فوجداری عدالت نے جابر اور مجبور، ظالم اور مظلوم کو دونوں ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کی ہے،۔ اس کو حماس نے اپنا نام طاہر کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ اسرائیل جسے اقوام متحدہ کی پوری رکنیت دی جا چکی ہے وہ تو اقوام متحدہ کے چارٹر تلے کام کرنے والی بین الاقوامی فوجداری کے دائرہ اختیار کو ماننے سے انکاری ہے۔ تو کیا فلسطینی جنہیں اقوام متحدہ کی رکنیت ابھی تک نہیں ملی بین الاقوامی فوجداری عدالت انہیں اپنے اختیار کے نیچے دبا سکے گی۔

ان خدشات پر چند روز قبل متعدد امریکی سینیٹرز نے جرائم کی عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔

ایک درجن امریکی ریپبلکن سینٹرز نے عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کو اعلیٰ اسرائیلی حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری نہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ارسال خط میں کہا تھا کہ اسرائیل کو نشانہ بناؤ اور ہم تمہیں نشانہ بنائیں گے، اس طرح کے اقدامات غیر قانونی اور بلا قانونی بنیاد ہیں، اور اگر ایسا کیا گیا تو اس کا نتیجہ تمہارے خلاف اور تمہارے ادارے کے خلاف سخت پابندیوں کی صورت میں نکلے گا۔

سینیٹرز نے خط میں الزام لگایا تھا کہ آئی سی سی ’اسرائیل کو اپنے خلاف ایرانی حمایت یافتہ جارحیت کرنے والوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے جائز اقدامات کرنے پر سزا دینے کی کوشش کر رہی ہے، درحقیقت، آپ کے اپنے الفاظ میں، آپ نے سات اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل میں حماس کی جانب سے ’ظلم کے مناظر‘ دیکھے۔

امریکی سینیٹرز نے لکھا تھا کہ ’یہ گرفتاری وارنٹ آئی سی سی کو دہشت گردی کے سب سے بڑے ریاستی سرپرست اور اس کی پراکسی کے ساتھ جوڑ دیں گے۔ واضح رہے کہ حماس کی دہشت گردی اور اسرائیل کے جائز ردعمل کے درمیان کوئی اخلاقی مساوات نہیں ہے۔

سینیٹرز نے لکھا تھا کہ ’آپ نے خود کہا کہ اسرائیل کے پاس تربیت یافتہ وکیل ہیں جو کمانڈروں کو مشورہ دیتے ہیں اور اس کے پاس عالمی انسانی قانون کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط نظام ہے‘، وارنٹ جاری کر کے آپ اسرائیل کے قوانین، نظام قانون اور جمہوری طر حکومت پر سوال اٹھا رہے ہوں گے‘۔

خط میں کہا گیا تھا کہ ’تمہیں خبر دار کر دیا گیا ہے کہ اگر آپ رپورٹ میں بتائے گئے اقدامات کرتے ہیں تو ہم آئی سی سی کے لیے تمام امریکی حمایت ختم کرنے، آپ کے ملازمین اور آپ سے منسلک افراد پر پابندی لگانے، آپ اور آپ کے اہل خانہ کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے لیے اقدامات کریں گے‘۔

واضح رہے کہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر کو ہونے والے حماس کے حملے میں تقریباً ایک ہزار 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ 20 اکتوبر کو غزہ پر پہلی زمینی کارروائی کے بعد سے تنازع میں اب تک 634 سے زائد اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

یاد رہے کہ سات اکتوبر کے حماس حملے کے بعد سے اسرائیل کی غزہ میں بہیمانہ کارروائیاں جاری ہیں، حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں کم از کم 35 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور امدادی اداروں نے بڑے پیمانے پر بھوک، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت سے بھی خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں