حسین امیر عبداللہیان ایران کے مغرب مخالف سب سے اہم سفارت کار !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اتوار کو اپنے صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ وہ اسرائیل اور اس کے حامی انہیں دو ٹوک اور آتشیں لہجے کی وجہ سے سخت یہود مخالف اور مغرب مخالف اعلیٰ ایرانی سفارت کار سمجھتے تھے۔

حسین امیر عبداللہیان ایک 'کیرئیر ڈپلومیٹ' ہونے کے ساتھ ساتھ ایرانی پاسداران انقلاب سے بھی اپنے مذہب پسند خیالات کی وجہ سے گہری قربت رکھتے تھے۔

انہوں نے وزارت خارجہ کا قلمدان 2021 کے صدارتی انتخاب کے بعد صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ان کے ٹیم ممبر کے طور پر سنبھالا۔ ایران کا ریاستی میڈیا ان کی ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپوں کے لیے اسرائیل مخالف ایجنڈے میں مدد اور قربت کی تحسین کر رہے ہیں۔ مزاحمتی گروپوں کو ان کے ذریعے ایرانی حمایت پورے مشرق وسطی میں میسر رہی۔

1964 میں پیدا ہونے والے حسین امیر عبداللہیان نے 1991 میں تہران یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری لی۔ گریجوایشن کے بعد انہوں نے اپنی ماسٹر ڈگری اور پی ایچ ڈی بھی اسی مضمون میں مکمل کی۔

اپنے سوگواروں میں دو بچوں کو چھوڑنے والے امیر عبداللہیان نے بطور وزیر خارجہ ایران بڑا چیلنجنگ دور گذارا۔ انہیں ایک بڑا چیلنج ان امریکی و یورپی پابندیوں سے نمٹنے کا درپیش رہا جو ان کی وزارت شروع ہونے سے پہلے سے چلا آ رہا تھا۔ نیز وقت کے ساتھ ساتھ خصوصا یوکرین میں روس کی جنگ اور غزہ میں اسرائیلی جنگ کے حوالے سے نئے چیلنج ایران کے لیے بھی ابھرتے رہے۔ حماس کی کھلی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت نئی پابندیوں کا بھی سب بنی۔ جبکہ حزب اللہ اور حوثیوں کی حماس کی حمایت میں کارروائیوں کو بھی ایرانی کارروائیوں کے طور پر لیا گیا۔

امیر عبداللہیان کے دور سفارت میں ایران کو عالمی سطح سے تنہائی سے نکالنے میں بس ایک کامیابی ملی کہ سعودی عرب کے ساتھ چین کی مدد سے ایرانی تعلقات بحال ہو گئے۔ یہ بڑی کامیابی ایران کو 2023 میں ملی۔ بہر حال مشرق وسطی میں یہ ایک بڑی پیش رفت رہی۔

تاہم جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران کے چیلنج اپنی جگہ موجود رہے۔ یہ چیلنج اب بھی جاری ہیں۔ بلکہ ایرانی ڈرون طیاروں کی وجہ سے مزید اقتصادی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

انہیں عراق اور بحرین میں اپنی سفارتی ذمہ داریوں کے تجربے سے بہت کچھ دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ وہ 1997 سے 2001 تک عراق میں جبکہ 2007 سے 2010 تک خدمات انجام دیتے رہے۔

سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں امیر عبداللہیان کو عرب اور افریقی امور کے نائب وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔

ایرانی جوہری پروگرام کو تعطل سے نکالنے اور اس پر امریکہ و یورپ کے ساتھ مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں میں بھی شامل رہے۔

واضح رہے 2015 میں اوباما کے دور صدارت کے دوران امریکہ اور مغربی حکومتوں کے ساتھ ہونے والے ایرانی جوہری معاہدے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 2018 میں امریکہ نے نکلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ امریکہ یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے نکل گیا تھا۔ تاہم مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔

امیر عبداللہیان کی پاسدران انقلاب سے قربت !

وہ پاسدران انقلاب سے گہری نظریاتی قربت رکھتے تھے۔ ان کی یہ قربت ان کے پورے دور سفارت پر محیط رہی۔ حسین امیر عبداللہیان پاسداران کے جنرل قاسم سلیمانی کے بطور خاص زیادہ قریب تھے۔ جنرل قاسم سلیمانی کو امریکہ نے بغداد میں جنوری 2020 میں ڈرون حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ قاسم سلیمانی عباللہیان کی سفارتی مہارت کے قائل تھے۔ انہیں ایک سچا سفارت کار کہتے تھے خصوصا مذاکراتی مہارت کا انہوں نے ایک انٹرویو میں تعریف کے ساتھ ذکر کیا۔

وزارت خارجہ میں حسین امیر عبداللہیان کے آخری مہینے کے دوران علاقائی سطح پر اسرائیل کے ساتھ غزہ جنگ کی وجہ سے کشیدگی بڑھ چکی تھی۔ ایران اور اسرائیل کے دوطرفہ حملوں تک نوبت پہنچ گئی۔ امیر عبداللہیان نے اپنی زندگی کے اسی آخری مہینے میں اسرائیل پر ایران کے جوابی حملے کا بھر پور انداز میں دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا اسرائیل پر ایران کا یہ اب تک کا پہلا حملہ تھا۔ اس سے پہلے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیل کا حملہ خوفناک ترین تھا۔ عبداللہیان نے اسرائیل پر ایران کے جوابی حملے کو قانونی فریم ورک کے اندر جائز قرار دیا تھا۔

بعد ازاں انہوں نے اسرائیل کے ایرانی صوبے اصفہان پر اسرائیلی حملے کو ' ڈاؤن پلے ' کر کے پیش کیا اور کہا' یہ ایک بچگانہ کام تھا۔'

اب وہ اپنے صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ اتوار کے روز ایک خوفناک حادثے میں لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ ان کی ہلاکت کی تصدیق پیر کی صبح کی گئی ہے۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ ان کی موت کو بھی ایک قربت رہی ہے کہ انہیں بھی موت بستر پر نہیں آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں