شام میں اسرائیلی حملوں میں چھ ایران نواز مزاحمت کار ہلاک ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کی سرحد کے قریب شام میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم چھ ایران نواز مزاحمت کار ہلاک ہو گئے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس میں وہ علاقہ بھی شامل ہے جہاں لبنان کے طاقتور حزب اللہ گروپ کا مضبوط کنٹرول ہے۔

شامی رصدگاہ کے مطابق: "اسرائیلی حملوں میں حمص کے علاقے میں ایران نواز گروپوں کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں سرحد کے قریب "القصیر کے علاقے میں حزب اللہ کا ایک ٹھکانہ" بھی شامل ہے جہاں "چھ ایرانی حمایت یافتہ مزاحمت کار مارے گئے۔"

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے لقمہ اجل بننے والوں کی شناخت نہیں بتائی۔ تاہم حزب اللہ کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کا کم از کم ایک جنگجو قصیر کے علاقے میں اسرائیلی حملوں میں مارا گیا۔

ہفتے کے روز آبزرویٹری نے کسی جانی نقصان کی اطلاع دیئے بغیر کہا کہ لبنانی سرحد کے قریب اسرائیلی ڈرون حملے میں "حزب اللہ کے ایک کمانڈر اور اس کے ساتھی" کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ حزب اللہ نے اپنی صفوں میں کسی ہلاکت کا اعلان نہیں کیا۔

آبزرویٹری اور ایران نواز گروپ نے کہا کہ نو مئی کو شام پر اسرائیلی حملوں میں عراق کی النجابہ مسلح تحریک سے تعلق رکھنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ دمشق نے کہا کہ ایک نامعلوم عمارت پر حملہ کیا گیا۔

2011 میں شمالی ہمسایہ میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج نے شام میں سینکڑوں حملے کیے ہیں جن میں بنیادی طور پر فوج کے ٹھکانوں اور لبنان کے حزب اللہ گروپ سمیت ایران کے حمایت یافتہ مزاحمت کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

شام کی جنگ 2011 میں دمشق میں حکومت مخالف مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں شروع ہوئی جس کے بعد سے اب تک نصف ملین سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں