ابراہیم رئیسی اگر ہیلی کاپٹر حادثے میں جانبر نہ ہو سکے تو ایرانی فیصلے کیسے ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اس وقت دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی مبینہ حادثے کے ساتھ گمشدگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں ۔ ان خبروں کا ایک اہم ترین موضوع ایرانی صدر کی زندگی اور قسمت کے بارے میں پائی جانے والی بے یقینی کی صورت حال ہے کہ وہ اس حادثے کے بعد زندہ واپس آسکیں گے یا نہیں؟

نیز یہ کہ کیا ان کے لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کو تلاش بھی کیا جاسکے گا یا نہیں؟ یاد رہے صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر سے اتوار کے روز سے رابطہ منقطع ہے۔ ان کا ہیلی کاپٹر رابطہ منقطع ہونے سے پہلے صوبے آذر بائیجان میں محو پرواز تھا۔

ایران کی طرف سے اپنے ٓصدر اور ان کے ہیلی کاپٹر کو تلاش اور ریسکیوکرنے کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اس آپریشن کا دائرہ زیادہ ترمشرقی آزر بائیجان میں ہے۔ جہاں خراب موسم اور سخت دھند کی وجہ سے مبینہ طور پر یہ حادثہ پیش آیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'عوام پریشان نہ ہوں۔' سپریم لیڈر نے اس موقع پر امید دلائی ہے کہ 'انشا اللہ صدر اور ان کے ساتھی اچھی صحت اور حالت میں مل جائیں گے۔' تاہم اگر صدر رئیسی واپس نہیں آ سکتے تو تو کیا ہو گا۔ ان سطور میں اسی بارے میں بیان کیا گیا ہے۔

ایرانی آئین کے آرٹیکل 131 کے مطابق اگر کسی صدر کا مدت صدارت کے دوران انتقال ہو جائے توملک کا اول نائب صدر صدارتی منصب سنبھال لے گا۔ اس کی توثیق ایرانی سپریم لیڈر کریں گے۔ ایرانی سپریم لیڈر کا حکم ایرانی نظام حکومت میں حرف آخر ہوگا۔

اگلے پچاس دنوں میں اول نائب صدر، پارلیمنٹ کے سپیکر اور عدلیہ کے سربراہ پر مشتمل مجلس نئے صدر کا انتخاب کرے گی۔

واضح رہے صدر رئیسی2021 میں ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ انکی مدت صدارت 2025 تک ہے، جس کے بعد نئے صدر کا انتخاب کیا جانا تھا۔

تاہم ایرانی میں سپریم لیڈر کی حیثیت بالا تر ہے۔ ان کا ہر شعبے بشمول خارجہ پالیسی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی حکم اور رائے حتمی ہے۔ اس لیے اگر صدر رئیسی کا حادثہ زیادہ خطرناک بھی ہو جاتا ہے تو ایران کے ریاستی نظام اور پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں