سعودی عرب میں سونے کی کان’مہد الذہب‘ جو ہزاروں سال سے سونا اگل رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں مدینہ منورہ میں ’سونے کا شہر‘ یا ’سونے کا گہوارہ‘(مہد الذھب) کہلائے جانے والی ایک کان اپنے نام کی طرح روئے زمین پر سب سے نمایاں دولت کا خزانہ ہے۔ یہ کان ہزاروں سال سے سونا، چاندی اور دیگر دھاتوں کے حصول کا ذریعہ ہے۔

جب سے بنی نوع انسان نے سونے کی دھات ایجاد کی ہے تب سے یہ چمک دمک اور قدور قیمت کا حامل رہا ہے۔ اسے تجارتی لین دین میں سب سے مشہور دھات سمجھا جاتا ہے۔ یہ تمام شعبوں میں استعمال ہوتا رہا ہے، خاص طور پر متعدد ادوار میں سونے کے سکوں کی ٹکسال، ممالک، حکمرانوں اور تاجر خاندانوں کی دولت کے طور پر سونے کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔

اگرچہ سعودی شہر سونے کا گہوارہ رہا ہے اور تقریباً 3,000 سال سے سونا پیدا کر رہا ہے، لیکن 960 قبل مسیح کے تابکار آسوٹوپس کی جانچ پڑتال کے مطابق اس نے اپنی چمک اور سونے کی پیداوار میں کمی نہیں کی ہے۔

مورخین اور ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ ’مہد الذہب‘ کان کئی ادوار سے گذری، جن میں سب سے اہم عباسی دور تھا۔عباسی دور میں سنہ 752ء میں خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں کھدائی کرنے والی ٹیموں نے 50 ٹن سے زیادہ سونا نکالا۔ اس سونے سے سکے تیار کیے جاتے جسے’’منٹنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عورتیں اسے زیور کے طور پر پہنتیں۔ اسے صدیوں سے عورت کی زیب وزینت کا حصہ تصور کیا جاتا۔ ’مہد الذہب‘ عباسی خلافت کے لیے دولت کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ تھی۔

جب کہ کان کا دوسرا دور مُملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے دور میں 1939ء- 1955ء کے عرصے میں گذرا۔ ان کے دور میں ’سامس‘ مائننگ سنڈیکیٹ کے ذریعے کام کے دوران اس کان سے 23 ٹن سونا نکالا گیا۔ اتنی ہی مقدار میں چاندی پیدا ہوئی۔ کان دوسری جنگ عظیم کے بعد سونے کی قیمتوں میں گراوٹ اور اس جنگ میں استعمال ہونے والے مواد کی کمزوری کی وجہ سے ان سالوں میں پیداوار کی زیادہ لاگت کے ساتھ رک گئی۔

سنہ 1989ء کے آغاز میں شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور میں اس کان کا یہ تیسرا دور ہے جس میں دوبارہ کام شروع کیا گیا تھا، جب اسی علاقے میں مزید خام سونا اور دیگر معدنیات دریافت ہوئی تھیں۔

مہد الذہاب کان کو حالیہ دریافتوں سے پہلے مملکت میں سونے کی سب سے بڑی کان تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے سالانہ تقریباً ایک لاکھ اونس سونا اور 300,000 ٹن چاندی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن تانبا مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والی دھاتوں میں سے ایک اہم دھات بن چکا ہے۔

مہد الذہب کان اور کارخانے کی سرگرمی 3,000 سال پہلے شروع ہوئی تھی، کیونکہ اس کان کا وقفے وقفے سے سونے کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا۔ کان میں دریافت ہونے والے نوادرات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا استحصال تین ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ 950 قبل مسیح کے آس پاس اس سے سونے کی بڑی مقدار نکالی گئی۔

مدینہ کے علاقے میں واقع مہد الذہب کان مملکت کی قدیم ترین سونے کی کانوں میں سے ایک ہے، جس کی پیداوار کا حجم 2020ء میں تقریباً 28,928 اونس تھا، جب کہ سعودی دور میں 1989ء سے 2020 تک سونے کی پیداوار کی مقدار خام مال کی مقدار تقریباً 6 ملین ٹن ہے۔ اس کے علاوہ خالص سونے کی پیداوار 2.5 ملین اونس اور چاندی کی 9.8 ملین اونس ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں