فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کو شواہد کی جانچ کے لیے مدد دی ہے : امل کلونی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے معروف اداکار جارج کلونی کی لبنانی نژاد برطانوی وکیل اہلیہ امل کلونی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو غزہ میں نسل کشی کے شواہد کا جائزہ لینے میں انہوں نے مدد دی ہے۔ تاکہ فوجداری عدالت اس نتیجے پر پہنچ سکے کہ غزہ میں نسل کشی ہوئی ہے یا نہیں اور معاملہ نسل کشی کے ذمہ داروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے یا نہ کرنے کے حتمی فیصلہ تک پہنچ سکے۔

لبنانی نژاد برطانوی وکیل امل کلونی انسانی حقوق کے ایشوز پر کام کرنے والی معروف وکیل ہیں۔ انہوں نے اپنا یہ بیان 'کلونی فاؤنڈیشن فار جسٹس' کی ویب سائٹ پر جاری کیا ہے۔ 'کلونی فاؤنڈیشن فار جسٹس' امل نے اپنے شوہر کلونے کے ساتھ مل کر قائم کر رکھی ہے۔

اس سے قبل کلونی فاؤنڈیشن اور امل کلونی پر یہ تنقید ہو رہی تھی کہ انہوں نے غزہ میں شہریوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر خآموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس بارے میں کچھ بولا یا کہا نہیں ہے۔

امل کلونی نے کہا 'اسے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خآن نے فوجداری عدالت کے ان ماہرین میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی جو غزہ سے متعلق شواہد کا جائزہ لینے کے لیے تھی۔ تاکہ شواہد کو جانچ سکیں کہ آیا یہ نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں اور کیا اسرائیل اور غزہ میں انسانیت کے خلاف واقعی جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔'

امل کلونی کا یہ بیان اسی روز سامنے آیا ہے جس روز پراسیکیوٹر کریم خان نے غزہ میں جنگ کے حوالے سے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی بات کی ہے اور اس پر دنیا بھر میں ایک شور بپا ہے۔

کلونی نے کہا 'ہمارے ماہرین کے مختلف پس منظر کے باوجود ہماری قانونی 'فائنڈنگز' متفقہ ہیں اور اس سلسلے میں کافی معقول شواہد موجود ہیں کہ حماس کے یحییٰ السنوار، محمد زیف اور اسماعیل ھنیہ اسرائیلیوں کو یرغمال بنانے اور قتل کرنے میں ملوث ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے بارے میں کلونی نے کہا 'ان کے بارے میں بھی زمین پر ایسے بہت سے معقول شواہد موجود ہیں کہ ان دونوں نے بھوک کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر فلسطینیؤں کے خلاف استعمال کیا ہے۔ تاکہ انہیں بھوک سے مار سکیں۔ ان کو جبر کا نشانہ بنا سکیں۔'

کریم خان نے پیر کے روز وارنٹ جاری کرنے سے متعلق گفتگو کے دوران کلونی کی طرف سے اس اہم کام میں مدد کرنے پر بہت شکریہ ادا کیا۔

کولنے نے اپنے کام اور فاؤنڈیشن کے کے بارے میں ایک سوال پر کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتیں کہ وہ اپنے کام کے ساتھ ساتھ 'رننگ کمنٹری' کرتی رہیں۔ بلکہ چاہتی ہیں کہ ان کا کام خود بولے کہ انہوں نے کیا اور کس طرح کام کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں