اسرائیل رفح فوجی آپریشن پر ہمارے خدشات کو مدِنظر رکھے ہوئے ہے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سینئر امریکی اہلکار نے منگل کو کہا کہ اسرائیل نے پناہ گزینوں سے پُر غزہ کے شہر رفح میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے امریکی خدشات کو مدِنظر رکھا ہوا ہے۔

اہلکار نے نامہ نگاروں کو بتایا، "یہ کہنا مناسب ہے، میرے خیال میں اسرائیلیوں نے اپنے منصوبوں کو نئی ترتیب دی ہے۔ انہوں نے کئی خدشات کو پیشِ نظر رکھا ہے جن کا ہم نے اظہار کیا ہے۔"

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اہلکار نے کہا، "یہ ایک جاری بحث ہے، جاری بات چیت ہے۔ یہ بحث تعمیری رہی ہے۔"

یہ اہلکار اُس بات چیت کا حوالہ دے رہا تھا جو امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیل میں وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت سینئر اسرائیلی حکام کے ساتھ کی تھی۔

اہلکار نے کہا، "اہم بات یہ ہے کہ اصل میں کیا ہوتا ہے۔ ہم اسرائیلی کارروائیوں کو سبز جھنڈی نہیں دکھاتے۔ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔"

صدر جو بائیڈن نے عوامی طور پر کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ اسرائیل رفح میں کوئی بڑا زمینی حملہ کرے جو غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں ہے اور اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں سے پُر ہے۔

اپنے سب سے بڑے اتحادی واشنگٹن سمیت بین الاقوامی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل نے اس ماہ کے اوائل میں رفح کے کچھ حصوں پر زمینی حملہ کیا جس کی وجہ سے وہاں پھنسے 10 لاکھ سے زائد شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

اسرائیل نے رفح سے بڑے پیمانے پر انخلاء کا حکم دیا ہے جہاں اس نے حماس اور اس کے سرنگوں کے نظام کو تباہ کرنے اور باقی یرغمالیوں کو بازیاب کروانے کا عزم کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں